خیبر پختونخوا میں زعفران کی کاشت سے متعلق منصوبہ کرپشن کی نذر

خیبر پختونخوا میں زعفران کی کاشت سے متعلق منصوبہ کرپشن کی نذر

عظمت گل

خیبر پختونخوا میں زعفران کی کاشت سے متعلق منصوبہ شروع ہونے سے پہلے ختم ہونے کا خدشہ ظاہر ہونے لگا ہے۔ منصوبے میں ناقص معیار کے زعفران کے بلب کی فراہمی اور ٹھیکیداروں کی مبینہ بدانتظامی شامل ہے۔

تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا میں زعفران کی کاشت سے متعلق پودوں کی فراہمی کا ٹینڈر ایسے ٹھیکیدار کو دیا گیا جس کے پاس فیڈرل سیڈز سرٹیفکیشن کا لائسنس نہیں تھا۔بلب افغانستان کی بلیک مارکیٹ سے سمگل کئے گئے۔ بیج نہ صرف بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں بلکہ حکومت کو بھی مالی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ چترال میں فراہم کئے گئے زعفران بلب کو ناقص قرار دے کر واپس کر دیا گیا۔ محکمہ زراعت کی متعدد یاددہانیوں کے باوجود متعلقہ فرم نے معیاری بلب فراہم نہیں کیا۔ زعفران کے بلب کو محفوظ رکھنے کیلئے نرسری فارم کے پاس مناسب کولڈ سٹوریج کی سہولت نہیں ہے۔ صوبے میں زعفران کی کاشت کا منصوبہ تقریباً 19 کروڑ روپے کا ہے۔

مزید پڑھیں: 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف وکلا تحریک شروع کرنے کا اعلان

منصوبے کی آخری تاریخ 28 اکتوبر ہے۔ سیکرٹری زراعت عطا الرحمن سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ منصوبے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔اگر بلب معیاری نہ ہوا تو کوئی رقم جاری نہیں کی جائے گی۔ چئیرمین ڈائریکٹر ریسرچ عبد الروف کا کہنا ہے کہ فرم کو کئی بار بلب کی میعاری بیج کی فراہمی کے لیے نوٹس دیا لیکن کوئی خاطر خواہ جواب جمع نہ کر سکے۔اگر فرم نے ایک ہفتے میں جواب نہ دیا تو ٹھیکہ منسوخ کر سکتے ہیں۔ محکمہ کو فرم کی جانب سے فراہم کردہ بیج کے غیر معیاری ہونے کے حوالے سے آگاہ کیا تھا جو واپس کر دیا گیا۔متعلقہ فرم حاجی نرسری فارم کے پاس کوئی لائسنس نہیں ہے۔فیڈرل سیڈز خیبر پختونخواانچارج عنایت اللہ کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کو زعفران کی فراہمی کے حوالے سے ہمارے ساتھ کوئی رابط نہیں کیا گیا۔ زعفران فراہم کرنے اور ٹھیکہ لینے سے پہلے لائسنس ضروری ہوتا ہے۔

 

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *