پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سپریم کورٹ بار کے سابق صدر حامد خان نے نیشنل ایکشن کمیٹی کے ذریعے 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف وکلا تحریک شروع کرنے کا اعلان کردیا۔
حامد خان نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وکلا جسٹس منصور علی شاہ کے علاوہ کسی کو اگلا چیف جسٹس تسلیم نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کل اور آج کا دن سیاہ ترین ہیں اور یہ آئینی ترمیم آئین کا حلیہ بگاڑنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے اس ترمیم کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آئین کے ڈھانچے کے خلاف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وکلا کا آئین اور عدلیہ کا تحفظ فرض ہےاور وہ وکلا کی ملک بھر میں تحریک چلائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو اٹھا کر وہیل چیئر پر لایا گیا، ہم سمجھتے ہیں یہ ووٹ گنے نہیں جاسکتے۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر عابد زبیری نے کہا کہ ہم عدلیہ کا جنازہ نہیں اٹھنے دیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی تحریک خیبر سے کراچی تک جاری رہے گی اور عدلیہ کی بحالی کے لیے کوششیں کی جائیں گی۔
ایڈیشنل سیکرٹری سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن شہباز کھوسہ نے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ بنیادی حقوق کے محافظ تھے، ایک جماعت سے اس کا نشان چھینا، الیکشن پر کیسے مہر ثبت کی، سب کے ذمہ دار چیف جسٹس صاحب ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وکلا کو کالی بھیڑوں کو پہچاننا ہوگا، پارلیمنٹ کا آڈٹ ہونا چاہئے۔ پی ٹی آئی رہنما سردار لطیف کھوسہ نے کہا کہ موجودہ حکمران ہار چکے ہیں اور انہوں نے عدالت کو غلام بنانے کی کوشش کی ہے۔ شعیب شاہین نے یہ دعویٰ کیا کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ترمیم کے لیے راستے فراہم کیے اور انہوں نے انصاف کی بحالی کی ضرورت پر زور دیا۔
حامد خان نے 25 اکتوبر کو یوم نجات کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہے۔ وکلا تحریک کا مقصد آئینی ترمیم کے خلاف مزاحمت کرنا اور عدلیہ کی آزادی کی بحالی ہے۔