وزیراعظم کے مشیر برائےسیاسی امور رانا ثناءاللہ نے برسوں بعد پیپلز پارٹی سے نکالے جانے کی وجہ بتا دی۔
سابق وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ ایک انٹرویو میں بتایا کہ انہوں نے اپنی سیاسی اننگز کا آغاز پاکستان پیپلز پارٹی سے کیا تھا اور پہلی بار پنجاب سے پی پی کے ٹکٹ پر ہی ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوا تھا۔
انہوں نے کہا کہ 90 کی دہائی میں جب پاکستان مسلم لیگ ن دوتہائی اکثریت حاصل کر کے اقتدار میں آئی تو اس وقت صرف فیصل آباد سے پیپلز پارٹی صرف ایک ہی سیٹ جیت سکی تھی اور وہ بھی میں نے جیتی تھی ، یہ ایسا دور ہوتا تھا جب الیکشن جیتنا بہت بڑی بات سمجھا جاتا تھا۔
ن لیگ کی حکومت کے خاتمے کے بعد جب دوبارہ الیکشن ہوئے تو پیپلز پارٹی نے میری جگہ زاہد سرفراز کو ٹکٹ جاری کیا گیا جنہیں ضیا الحق کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا تھا ، ہم نے اس وقت جیل کی صعوبیتں برداشت کی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ہم نے ان کیخلاف جلوس نکالنے شروع کر دیے جس پر میرا ٹکٹ کینسل کر کے احمد سعید اعوان کو جاری کیا گیا ،اور یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ زاہد سرفراز کے کہنے پر ہی پاکستان پیپلز پارٹی سے میری رکنیت ختم کی گئی تھی۔