سمندری راستوں کا تحفظ تجارت ہی نہیں عالمی سلامتی کے اہداف کے لیے بھی ناگزیر ہے، پاکستان

سمندری راستوں کا تحفظ تجارت ہی نہیں عالمی سلامتی کے اہداف کے لیے بھی ناگزیر ہے، پاکستان

اقوام متحدہ میں پاکستان نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی بحری راستوں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ، خصوصاً اس اہم آبی گزرگاہ کی بندش، بین الاقوامی امن، معاشی استحکام اور ترقی پذیر ممالک کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بحری سلامتی سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا کہ سمندری راستوں کا تحفظ صرف تجارت ہی نہیں بلکہ عالمی ترقی اور سلامتی کے اہداف کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کی عالمی معیشت بڑی حد تک بلا تعطل بحری تجارت پر انحصار کرتی ہے اور کسی بھی رکاوٹ کے اثرات فوری اور وسیع ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی اس بات کی واضح مثال ہے کہ بحری عدم استحکام کس طرح عالمی بحرانوں کو جنم دے سکتا ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے جبکہ خوراک اور توانائی کی سلامتی کو بھی شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ اس طرح کی رکاوٹیں عالمی سپلائی چین کو متاثر کرتی ہیں جس کا سب سے زیادہ نقصان ترقی پذیر ممالک کو ہوتا ہے جو پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔

 یہ بھی پڑھیں :افغان سرزمین پاکستان کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے، پاکستانی مندوب کا سیکیورٹی کونسل میں اظہارِ تشویش

انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے کے اہم ممالک بشمول چین، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جا سکیں۔ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ بحرانوں کا حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور استحکام کے لیے بھی سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے اور جنگ کے بجائے امن کو ترجیح دیتا ہے۔ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے کیونکہ عالمی امن ہی پائیدار ترقی کی ضمانت ہے۔

editor

Related Articles