برطانوی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ روس نے ایران کو ایسے جدید اینٹی جیمنگ ڈرونز فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی جنہیں روایتی الیکٹرانک مداخلت کے ذریعے ناکارہ بنانا انتہائی مشکل سمجھا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ جدید ڈرونز آپٹک فائبر ٹیکنالوجی کے ذریعے کنٹرول کیے جاتے ہیں، جس کے باعث دشمن کے الیکٹرانک جیمنگ سسٹمز ان پر مؤثر انداز میں اثر انداز نہیں ہو پاتے۔
برطانوی جریدے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان ڈرونز کو خلیج فارس اور مشرق وسطیٰ کے دیگر حساس علاقوں میں امریکی اور اتحادی افواج کے خلاف استعمال کیا جا سکتا تھا۔ رپورٹ کے مطابق روسی انٹیلی جنس ادارے GRU کے مبینہ خفیہ منصوبے میں ایران کو پانچ ہزار شارٹ رینج ڈرونز فراہم کرنے کی تجویز شامل تھی، جبکہ طویل فاصلے تک کارروائیوں کیلئے سیٹلائٹ گائیڈڈ سسٹمز دینے کی پیشکش بھی کی گئی تھی۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسی نوعیت کی ڈرون ٹیکنالوجی روسی افواج پہلے ہی یوکرین جنگ میں استعمال کر چکی ہیں، جہاں انہیں مؤثر اور جدید ہتھیار قرار دیا گیا۔ ماہرین کے مطابق فائبر آپٹک کنٹرولڈ ڈرونز روایتی ڈرونز کے مقابلے میں زیادہ محفوظ سمجھے جاتے ہیں کیونکہ ان کا رابطہ ریڈیو سگنلز کے بجائے براہِ راست فائبر لائن سے قائم رہتا ہے۔
تاہم برطانوی جریدے نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ پیشکش کب کی گئی اور آیا تہران نے اسے قبول کیا یا نہیں۔ رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ ماسکو ماضی میں بھی خطے میں امریکی مفادات کے خلاف ایران کو انٹیلی جنس معاونت فراہم کرتا رہا ہے۔
ادھر امریکی میڈیا میں بھی متعدد رپورٹس سامنے آ چکی ہیں جن میں کہا گیا کہ روس خفیہ معلومات اور تکنیکی معاونت کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں ایران کی بالواسطہ مدد کرتا رہا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔