سابق وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں فارورڈ بلاک بننے کی پیش گوئی کردی۔
ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے فیصل واوڈا نے کہا کہ عید کے بعد نہ تو کوئی گرینڈ الائنس ہوگا اور نہ ہی دھرنا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی میں دو نئے فارورڈ بلاک بنیں گے، ایک وہ جو پی ٹی آئی کے پرانے ارکان پر مشتمل ہوگا اور دوسرا وہ جو پارٹی سے باہر ہو چکے ہیں۔
فیصل واوڈا نے مزید کہا کہ اس وقت اگر آپ چاروں صوبوں کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو خیبر پختونخوا میں کرپشن کا بازار گرم ہے۔ میں نے ایک سال پہلے پیش گوئی کی تھی کہ پی ٹی آئی کے اتنے ٹکڑے ہوں گے کہ انہیں سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔
سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ ملک میں اقتدار اور دولت کی جنگ جاری ہے، تحریک انصاف بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خطوط کو توثیق نہیں دے رہی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کے لوگ مسلم لیگ ن کی حکومت کے ضمانتی بن چکے ہیں۔
قبل ازیں میڈیا سے گفتگو کے دوران سینیٹر فیصل واوڈا نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مستقبل کے حوالے سے پیش گوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگلے آٹھ سے دس مہینوں تک عمران خان جیل باہر نہیں آ سکیں گے۔
انہوں نے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ پی ٹی آئی منتوں ترلوں پر اتر آئےگی جبکہ حکومت اپنی جگہ مضبوطی سے کھڑی رہے گی۔ اب بھی یہی کچھ ہو رہا ہے، تاہم آنے والے دنوں میں نچلی سطح پر مذاکرات شروع ہونے کی توقع ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فواد چودھری پارٹی میں واپس آنا چاہتے ہیں، اور انہیں واپس آ جانا چاہیے۔ فیصل واوڈا نے پیش گوئی کی کہ پرانے چہرے ایک بار پھر پی ٹی آئی میں نظر آئیں گے اور آنے والے وقت میں پارٹی کو کئی چیلنجز درپیش ہوں گے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ 18 تاریخ کو نہ کوئی احتجاج ہوگا، نہ دھرنا، نہ کوئی بڑی سیاسی سرگرمی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جو ٹرمپ کارڈ دکھانے کی بات کی جا رہی تھی، وہ محض پلے کارڈز کی صورت میں ہی سامنے آئیں گے اور کوئی غیر معمولی صورتحال پیدا نہیں ہوگی۔
فیصل واوڈا نے واضح کیا کہ وہ عمران خان کو اپنا سابق رہنما مانتے ہیں اور جو سیاست انہوں نے ان سے سیکھی ہے، اسی پر عمل پیرا ہیں۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں کسی پارٹی میں شامل ہونے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی وہ کسی ذاتی مفاد کے تحت کسی کے پاس گئے ہیں۔
انہوں نے مولانا فضل الرحمان سے متعلق کہا کہ ان سے ان کا احترام کا رشتہ ہے، اور اگر کوئی بڑا سیاسی موقع آیا تو وہ ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔