آزاد کشمیر میں12 نشستوں کے خاتمے کے مطالبے اور احتجاجی سرگرمیوں پر شہریوں نے کالعدم ایکشن کمیٹی کے طریقہ کار پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی معاملات کا فیصلہ سڑکوں پر احتجاج کے ذریعے نہیں بلکہ منتخب اسمبلی اور آئینی فورمز پر ہونا چاہیے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر کالعدم ایکشن کمیٹی یا کسی بھی گروہ کو 12 نشستوں کے معاملے پر اعتراض ہے تو وہ جمہوری طریقہ اختیار کرے، انتخابات میں حصہ لے، عوام سے مینڈیٹ حاصل کرے اور اسمبلی میں آئینی ترمیم کے ذریعے اپنا مؤقف پیش کرے،سڑکیں آئینی فیصلوں کا فورم نہیں، بلکہ عوامی نمائندوں کی اسمبلیاں ہی ایسے معاملات پر فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتی ہیں۔
مختلف علاقوں کے شہریوں نے احتجاجی سرگرمیوں کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چند اضلاع میں احتجاج کے باعث عام زندگی متاثر ہوئی، تعلیمی ادارے بند رہے، کاروباری سرگرمیوں میں خلل آیا اور عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
شہریوں کا کہنا تھا کہ احتجاج کی سیاست سے سب سے زیادہ نقصان عام آدمی کو اٹھانا پڑتا ہے، تاجر، مزدور، طلبہ، مریض اور روزمرہ کاموں کے لیے گھروں سے نکلنے والے افراد ایسی صورتحال سے براہ راست متاثر ہوتے ہیں،انہوں نے کہا کہ کسی بھی مطالبے کے لیے ایسا راستہ اختیار نہیں کیا جانا چاہیے جس سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو۔
شہریوں نے کالعدم ایکشن کمیٹی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چند افراد کے سیاسی یا گروہی مطالبات کے لیے پورے خطے کا امن اور معمولاتِ زندگی متاثر کرنا کسی صورت درست نہیں،شہریوں نے مطالبہ کیا کہ مسائل کے حل کے لیے مذاکرات، قانون اور آئینی اداروں کا راستہ اختیار کیا جائے۔
کئی شہریوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام امن، ترقی، روزگار اور بہتر مستقبل چاہتے ہیں انہیں ایسی سرگرمیوں سے نقصان پہنچتا ہے جن کے باعث تعلیمی نظام، کاروبار اور معاشی سرگرمیاں متاثر ہوں، شہریوں نے کہا کہ اختلاف رائے ہر ایک کا حق ہے، لیکن اس کا اظہار قانون کے دائرے میں رہ کر ہونا چاہیے ۔
شہریوں کا مزید کہنا تھا کہ اگر کسی گروہ کو موجودہ آئینی نظام میں تبدیلی درکار ہے تو اس کے لیے واضح اور قانونی راستے موجود ہیں۔ اسمبلی، عدالتیں اور دیگر آئینی ادارے ایسے معاملات کے حل کے لیے قائم کیے گئے ہیں، اس لیے سڑکوں پر دباؤ ڈالنے کے بجائے آئینی طریقہ کار اختیار کیا جانا چاہیے۔