واشنگٹن میں امریکی کانگریس کی ایک اہم سماعت کے دوران ایران کے ساتھ مبینہ جنگی صورتحال میں امریکی فضائیہ کو بھاری نقصان پہنچنے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 39 روزہ مبینہ جنگ کے دوران امریکی فضائیہ کے 39 طیارے اور ڈرون تباہ یا شدید متاثر ہوئے۔
ڈیموکریٹک رکن کانگریس ایڈورڈ کیس نے سینیٹ کمیٹی اجلاس کے دوران پینٹاگون کے چیف فنانشل آفیسر جے ہرسٹ سے اس حوالے سے سخت سوالات کیے۔ تاہم پینٹاگون حکام نے مبینہ نقصانات سے متعلق واضح مؤقف دینے سے گریز کیا اور کئی سوالات کے جواب میں محتاط رویہ اختیار کیا۔
کانگریس رکن نے امریکی دفاعی امور پر رپورٹنگ کرنے والی ویب سائٹ “دی وار زون” کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مبینہ 39 روزہ جنگ کے دوران امریکی فضائیہ نے تقریباً 13 ہزار فضائی مشنز انجام دیے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اس دوران مختلف نوعیت کے جنگی طیاروں اور ڈرونز کو نقصان پہنچا جن میں 24 ایم کیو-9 ریپر ڈرونز، متعدد ایف-15 اور اے-10 لڑاکا طیارے شامل ہیں۔
رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ جدید ففتھ جنریشن ایف-35 اے لڑاکا طیارہ بھی ایرانی فضائی حدود میں نشانہ بنایا گیا۔ اگرچہ امریکی حکام نے اس دعوے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، تاہم کانگریس اجلاس میں اٹھائے گئے سوالات نے اس معاملے کو مزید اہم بنا دیا ہے۔