مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر کشت و خون کا کھیل شروع ہوچکا ہے، اسرائیل نے حماس کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کے باوجود غزہ پر دوبارہ بمباری شروع کر دی ہے جس سے کم از کم 232 افراد شہید اور سیکڑوں کی تعداد میں زخمی ہو گئے ہیں۔
غزہ کی وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل کی غزہ پر تازہ بمباری کے نتیجے میں اب تک کم از کم 232 افراد شہید اور سیکڑوں کی تعداد میں زخمی ہو چکے ہیں۔ شہدا اور زخمیوں میں بچے اور خواتین کی بھی بڑی تعداد شامل ہے۔
حماس کا اسرائیل کے خلاف عالمی احتجاج کا مطالبہ
فلسطین کے مذاحمتی گروپ حماس نے عرب اور اسلامی ممالک کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غزہ پر اسرائیل کے تباہ کن حملوں اور معصوم لوگوں پر بمباری کے خلاف سڑکوں پر نکلیں اور احتجاج کریں۔ حماس نے دنیا بھر کے لوگوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں ہمارے عوام کے خلاف صیہونی جنگ کے پھر آغاز کو مسترد کرتے ہوئے اپنی آواز بلند کریں۔
واضح رہے کہ غزہ پر دوبارہ جنگ ایک ایسے وقت میں شروع کی گئی ہے جب 12 مارچ سے 16 دنوں سے جاری انسانی بحران سنگین ہوتا جا رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے کے اختتام پر تمام امداد اور سامان کے داخلے کو روکنے اور غزہ کی پٹی کی سرحدی گزرگاہوں کو بند کرنے کے فیصلے کے بعد پھر حملوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
غزہ میں خوراک، گیس اور ایندھن سمیت ضروری سامان کی فراہمی میں کمی کی وجہ سے رہائشیوں کو تیزی سے سنگین حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دریں اثنا، پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے، ایندھن کی جاری قلت کی وجہ سے ڈی سیلینیشن پلانٹس بھی بند ہو گئے ہیں۔ غزہ کے سرکاری میڈیا آفس نے متنبہ کیا ہے کہ تازہ ترین کشیدگی فلسطینی علاقے میں پہلے سے ہی سنگین انسانی صورتحال کو مزید سنگین کر دے گی۔
تمام قیدیوں کی رہائی تک حملے جاری رہیں گے، اسرائیل
اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے سلامتی کونسل کے آئندہ اجلاس سے قبل ایک پوسٹ میں غزہ پر وحشیانہ فضائی حملوں کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ تمام یرغمالیوں کی رہائی تک یہ حملے جاری رہیں گے۔
اسرائیلی فضائیہ نے منگل کو غزہ میں حماس کے ٹھکانوں پر حملوں کا سلسلہ شروع کیا۔ اسرائیلی سفیر کا کہنا تھا کہ ہم اپنے دشمنوں پر کوئی رحم نہیں کریں گے۔ میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اسرائیل اس وقت تک نہیں رکے گا جب تک ہمارے تمام یرغمالی وطن واپس نہیں آ جاتے۔ ہم سلامتی کونسل پر یہ واضح کر دیں گے کہ اگر وہ غزہ میں جنگ روکنا چاہتے ہیں تو انہیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ یرغمالی اسرائیل واپس آ رہے ہیں۔ ہم انہیں واپس لانے کے لیے پرعزم ہیں۔
ادھر میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فضائی حملے بڑے پیمانے پر تعمیر شدہ علاقوں، عارضی اسکولوں اور رہائشی عمارتوں پر کیے جا رہے ہیں جہاں لوگ پناہ لیے ہوئے ہیں۔ غزہ میں صحت کے عملے کا کہنا ہے ہم نے گزشتہ ایک گھنٹے کے دوران مرکزی علاقے میں اسرائیلی ڈرونز اور لڑاکا طیاروں کی واضح موجودگی کی آواز سنی ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ حملے کے دوران شہید ہونے والوں میں نوزائیدہ بچے، خواتین اور بزرگ بھی شامل ہیں۔