پاکستان اور بھارت کو تقسیم کرنے والی تاریخی سرحد ’واہگہ بارڈر‘ پر اس وقت ایک بار پھر جوش و جذبے کی لہر دوڑ گئی جب پرچم اتارنے کی روایتی تقریب اور پریڈ کے موقع پر وہاں نصب بڑی برقی اسکرینوں پر ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا وہ تاریخی پیغام نشر کیا گیا جس نے مئی 2025 کے معرکہ حق میں بھارت کے تکبر کو خاک میں ملا دیا تھا۔
واہگہ بارڈر پر موجود ہزاروں شائقین نے اس وقت فلک شگاف نعرے بلند کیے جب اسکرینز پر ڈی جی آئی ایس پی آر کے وہ الفاظ گونجے’آپ نے ہماری سرزمین پر میزائل داغے ہیں، ہم آپ کو صرف اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ نہ ہم تمہاری طاقت، نہ تمہاری جارحیت اور نہ تمہاری مکاری سے مرعوب ہونے والی قوم ہیں۔ ناؤ جسٹ ویٹ فار آور ریسپانس (اب بس ہمارے جواب کا انتظار کریں)‘۔
یہ وہی پیغام ہے جو پاکستان کے بعد 10 مئی کو 3 گھنٹے کے جوابی وار ’آپریشن بنیان مرصوص‘ کے آغاز سے قبل بھارت کو دیا گیا تھا اور جس کے بعد دنیا نے پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت کا عملی مظاہرہ بھی دیکھا۔
مئی 2025 کا معرکہ اور ’آپریشن بنیان مرصوص‘
اس واقعے کی جڑیں مئی 2025 کے ان واقعات میں پیوست ہیں جنہوں نے خطے کو ایٹمی جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا، مئی 2025 کے آغاز میں مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے ایک نام نہاد دہشتگرد حملے کا ڈرامہ رچایا تاکہ پاکستان پر الزام تراشی کا جواز پیدا کیا جا سکے۔
اس فالس فلیگ آپریشن کی آڑ میں بھارت نے 7 سے 9 مئی 2025 کے درمیان پاکستان کے خلاف ’آپریشن سندور‘ لانچ کیا اور پاکستانی حدود میں میزائل داغ کر جارحیت کی اور اشتعال انگیزی کی انتہا کر دی۔
بھارتی جارحیت کے جواب میں پاک فوج نے ’آپریشن بنیان مرصوص‘ (سیسہ پلائی ہوئی دیوار) کا آغاز کیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے انتباہی پیغام کے چند ہی گھنٹوں بعد پاکستان نے بھارتی فضائیہ اور زمینی تنصیبات کو وہ کاری ضرب لگائی جس کی گونج آج بھی بین الاقوامی دفاعی حلقوں میں سنائی دے رہی ہے۔
واہگہ بارڈر پر پیغام کی دوبارہ تشہیر مطلب
واہگہ بارڈر پر اس پیغام کو دوبارہ چلانے کا مطلب انتہائی اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں، واہگہ بارڈر وہ مقام ہے جہاں سرحد کے دونوں اطراف کے شہری اور فوجی آمنے سامنے ہوتے ہیں۔
وہاں اس پیغام کا نشر ہونا بھارت کے لیے ایک واضح یاد دہانی ہے کہ پاکستان اپنی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور ہر جارحیت کا جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، یہ ایک نفسیاتی دباؤ ہے۔
یہ اقدام پاکستانی عوام کے حوصلے بلند کرنے اور افواجِ پاکستان پر ان کے اعتماد کو مزید پختہ کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ 2025 کے معرکے کی یاد دہانی یہ ثابت کرتی ہے کہ پاکستان کا دفاعی نظریہ ’جوابی کارروائی‘ سے بڑھ کر ’دشمن کو عبرتناک سبق سکھانے‘ تک پھیل چکا ہے، جس کا ثبوت ’آپریشن بنیان مرصوص‘ کی کامیابی ہے۔