پشاور میں انتہائی خطرناک ملزمان کے پاس لائسنس یافتہ اسلحہ کی موجودگی کا انکشاف ہوا ہے۔ پولیس نے 320 ملزمان کے اسلحہ لائسنسز کی منسوخی کے لئے ڈپٹی کمشنر کو مراسلہ ارسال کردیا۔
پولیس کی جانب سے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ پشاور شہر کے 26 تھانوں کی حدود میں فوجداری مقدمات میں نامزد 320 ملزمان کے پاس تاحال لائسنس یافتہ اسلحہ موجود ہے۔ مراسلے میں واضح کیا گیا کہ سنگین مقدمات میں ملوث ان افراد کے پاس اسلحہ لائسنس ہونا عوامی تحفظ کیلئے خطرناک ہے ایسے افراد نہ صرف قانون کی گرفت سے بچ نکلتے ہیں بلکہ ان کے پاس قانونی اسلحہ موجود ہے جو کسی بھی وقت امن و امان کو تہہ و بالا کر سکتا ہے۔
مراسلے کے مطابق تھانہ چمکنی میں سب سے زیاہ51، ریگی کے حدود میں 42 ملزمان کے پاس اسلحہ لائنس ہے، رحمان بابا میں 24، تہکال 18،خزانہ،شاہ پور اور بھانہ ماڑی 16،16 ملزمان کے پاس لائسنس ہے، ارمڑ 14، انقلاب 13، فقیر آباد 11،گلبرگ اور ٹاون میں 10،10 ملزمان کے پاس اسلحہ لائسنس ہے،مچنی گیٹ اور پھندو میں 9،9، سربند اور ناصر باغ میں 7،7 ملزمان کے پاس لائسنس ہے، یکہ توت اور متھرا میں 6،6 ، داؤدزئی 05 ملزمان کے پاس اسلحہ لائسنس ہے، بڈھ بیر 4 ،حیات اباد 3، متنی 3،ہشتنگری 3،پہاڑی پورہ اور عربی تھانا حدود میں 2 ،2 افراد کے پاس لائسنس ہے۔
پولیس نے ڈی سی پشاور سے مطالبہ کیا ہے کہ ان تمام ملزمان کے اسلحہ لائسنس فوری طور پر منسوخ کئے جائیں اور متعلقہ قواعد و ضوابط کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ تمام ملزمان کے نام، شناختی کارڈ نمبر اور ایف آئی آرز متعلقہ تھانوں کو بھی بھیج دئیے گئے ہیں تاکہ مؤثر قانونی کارروائی کی جا سکے۔
واضح رہے اس سے قبل خیبرپختونخوا میں اسلحہ لائسنس کی منسوخی کے معاملے پر محکمہ پولیس اور ہوم ڈیپارٹمنٹ کے درمیان شدید ڈیڈلاک پیدا ہوئی ہے۔ پولیس کی جانب سے مشتبہ لائسنسوں کی فہرست محکمہ ہوم کو ارسال کی گئی، تاہم محکمہ داخلہ نے کارروائی سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ لائسنس کی منسوخی کا اختیار صرف عدالت کو حاصل ہے پولیس کو نہیں۔