امریکی ریسرچر نے ایک ایسی حیرت انگیز ٹیکنالوجی تیار کی ہے جس میں زندہ دماغی خلیات اور جدید الیکٹرانک نظام کو ایک ہی 3ڈی(3D) ڈیوائس میں جوڑ دیا گیا ہے۔ یہ تحقیق پرنسٹن یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے کی ہے، جسے مستقبل میں کمپیوٹنگ اور نیورو سائنس کے میدان میں ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق اس ڈیوائس میں تقریباً 70 ہزار زندہ نیورونز کو ایک خاص 3ڈی(3D) میش نیٹ ورک کے اندر پروان چڑھایا گیا ہے۔ یہ نیورونز ایک باریک دھاتی جالی اور مائیکروسکوپک الیکٹروڈز کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، جو نہ صرف ان کی سرگرمی کو ریکارڈ کرتے ہیں بلکہ انہیں کنٹرول بھی کر سکتے ہیں۔
اس سے پہلے ایسے تجربات زیادہ تر دو بعدی2ڈی (2D) پلیٹس یا سادہ کلچر سسٹمز میں کیے جاتے تھے، لیکن اس نئی ٹیکنالوجی میں نیورونز کو ایک مکمل3ڈی (3D)ڈھانچے میں کام کرنے کا موقع دیا گیا ہے، جس سے ان کے رویے کو زیادہ حقیقت پسند انداز میں سمجھا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ نظام نہ صرف دماغی سرگرمیوں کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد دے گا بلکہ نیورولوجیکل بیماریوں کی تحقیق اور کم توانائی استعمال کرنے والے کمپیوٹنگ سسٹمز کی تیاری میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے کئی مہینوں تک اس نیٹ ورک میں ہونے والی تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا اور مختلف برقی پیٹرنز کو پہچاننے کی صلاحیت کا بھی تجربہ کیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ یہ بایولوجیکل نیٹ ورک مختلف سگنلز اور پیٹرنز کو درست طریقے سے پہچان سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے توانائی کے مسئلے کا ممکنہ حل بھی بن سکتی ہے، کیونکہ انسانی دماغ انتہائی کم توانائی میں پیچیدہ کام انجام دیتا ہے۔
پرنسٹن ٹیم کے مطابق یہ تحقیق ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، لیکن اس کے نتائج اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مستقبل میں کمپیوٹنگ اور دماغی سائنس ایک دوسرے کے مزید قریب آ سکتے ہیں۔