نریندر مودی جو خود کو عالمی اسٹیج پر وشو گرو کے طور پر پیش کرتے ہیں اندرون ملک ایسی ناقص اور متضاد پالیسیاں چلا رہے ہیں جنہوں نے بھارت کی اپنی الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ انڈسٹری کو شدید بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک طرف چین سے دشمنی کا دکھاوا اور دوسری طرف انہی پر انحصار مودی حکومت کے اس دوغلے طرزعمل نے بھارت کو معاشی طور پر کمزور کر دیا ہے۔
چین کا اعتماد، پاکستان کا توازن اور بھارت کا تضاد
آزاد ریسرچ ڈیسک کے مطابق چین نے جب نایاب زمینی دھاتوں پر برآمدی پابندیاں عائد کیں تو اس کا اثر پوری دنیا پر پڑا لیکن سب سے زیادہ ہلچل بھارت میں دیکھی گئی کیونکہ بھارت کی میک ان انڈیامہم کا انحصار خود چین سے درآمد شدہ دھاتوں اور مشینری پر تھا چین نے اپنی پالیسیاں قومی مفادات کے تحت مرتب کیں کسی سیاسی ڈھونگ یا انتخابی پروپیگنڈے کے تحت نہیں۔
دوسری طرف پاکستان جس پر مودی حکومت بے بنیاد الزامات اور پراپیگنڈا کرتی رہتی ہے، معاشی میدان میں ایک بہتر، متوازن اور حقیقت پسندانہ حکمت عملی اپنا رہا ہے۔ پاکستان نے چین کے ساتھ سی پیک کے ذریعے جو اقتصادی راہداری بنائی وہ آج نہ صرف انفراسٹرکچر بلکہ صنعتی ترقی کا ذریعہ بھی بن رہی ہے۔
مودی حکومت کی ناعاقبت اندیشی، صنعت کار بدحال، مزدور بے حال
بھارتی حکومت نے صرف چین پر انحصار کم کرنے کے جنون میں سونے کے مرکبات (جیسے پوٹاشیم گولڈ سائینائیڈ) کی درآمد پر بھی پابندی لگا دی جو کہ سیمی کنڈکٹرز اور الیکٹرانک پرزوں کی تیاری میں اہم خام مال ہے
بھارت کی اپنی کمپنیا ں جیسے Foxconn، جسے مودی حکومت “فتح” کے طور پر پیش کرتی تھی آج چینی انجینئرز کی واپسی اور پیداواری رکاوٹوں کے باعث بحران کا شکار ہے،انڈسٹری گروپس خود کہہ چکے ہیں کہ مودیکی حالیہ پالیسیوں نے غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہےجو ملکی مینوفیکچرنگ کو تباہ کر رہی ہے۔
پاکستان کا راستہ، سمجھداری اور حقیقت پسندی
پاکستان نے ہمیشہ صنعتی پالیسیوں میں استحکام، شفافیت اور علاقائی تعاون کو مقدم رکھا ہے پاکستان نہ تو اپنے صنعتی سیکٹر کو سیاسی جنگوں کی بھینٹ چڑھاتا ہے اور نہ ہی درآمدات یا برآمدات پر ایسے فیصلے کرتا ہے جو خود اپنی معیشت کے لیے زہر ثابت ہوں۔
یہ خبر بھی پڑھیں :مودی سرکار کی دوہری پالیسی، یاتریوں کو تحفظ، محرم کے جلوسوں پر پابندی لگادی

