عرب ٹی وی الجزیرہ کی ایک تفصیلی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ کو ایک طرفہ طور پر معطل کرنا ممکن نہیں۔
بھارت نے دریاؤں کے پانی پر کنٹرول کے لیے جو کوششیں کی ہیں، اس سے خطے میں پانی کا بحران سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت معاہدہ ختم یا تبدیل کرنا چاہے تو دونوں ممالک کی مشترکہ رضا ضروری ہے۔ صرف بھارت کی جانب سے ڈیم بنا کر پانی اسٹور کرنے کی صلاحیت محدود ہے، اور اگر ایسی کوشش جاری رہی تو بھارت کو خود ہی سیلاب کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
ماحولیاتی ماہر نصیر میمن نے رپورٹ میں یہ بیان کیا کہ بھارت کی یہ حکمت عملی غالباً ایک سیاسی حربہ ہے تاکہ پاکستان میں خوف کی فضا پیداکرکے پانی کی تقسیم پر سوالات اٹھائے جا سکیں۔
کنگز کالج لندن سے ماجد اختر نے کہا کہ بھارت کا معاہدے کی معطلی کا دعویٰ براہِ راست خطرناک نہیں، بلکہ اس میں ایک علامتی نقصان پہنچانے کی نیت پوشیدہ ہے۔
ورلڈ بینک کے صدر اجے بانگا نے بھی واضح کیا کہ معاہدے میں ایک طرفہ معطلی کی کوئی قانونی گنجائش نہیں۔ کسی بھی تبدیلی یا اختتام کے لیے دونوں فریقوں کی رضا ضروری ہے۔
نئی دہلی کی تجزیہ کار اور پانی کی ماہر انتمہ بنرجی نے کہا کہ بھارت کسی بھی دریا کے بہاؤ کو مکمل طور پر روک نہیں سکتا، وہ صرف پانی کے اخراج کو وقتی طور پر منظم کر سکتا ہے۔
یونیورسٹی کالج لندن کے ماحولیاتی تاریخ دان ڈین ہینز کے مطابق، پہلگام واقعے کے بعد بھارت نے پانی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے معاہدے کو عارضی طور پر معطل کرنے کی کوشش کی۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت مؤثر بین الاقوامی عدالتوں کے فیصلوں کو نظرانداز کر کے کھلی طور پر قانون شکنی کا مرتکب ہو رہا ہے۔