عرب لیگ اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے اسرائیل کی جانب سے غزہ پٹی پر فوجی کنٹرول قائم کرنے کے مبینہ منصوبے کو بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت الفاظ میں مسترد کر دیا ہے۔
اتوار کو جاری کردہ ایک مشترکہ اعلامیے میں، دونوں علاقائی تنظیموں نے اس مجوزہ اقدام کو غیر قانونی اور ناقابل قبول قرار دے دیا ہے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’غزہ پر طاقت کے ذریعے قبضہ بین الاقوامی اصولوں اور فلسطینی عوام کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے‘۔’دونوں تنظیموں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری مداخلت کرے اور خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکے‘۔
دوسری جانب فلسطینی مزاحمتی گروہ حماس نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے حالیہ بیان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے جاری جنگ بندی مذاکرات کے خلاف ’بغاوت‘ قرار دیا۔
حماس نے عزم ظاہر کیا کہ وہ کبھی بھی اسرائیل کو محصور غزہ پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔ عرب لیگ اور او آئی سی کی جانب سے یہ شدید ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل کے ارادوں کے خلاف سفارتی اور سیاسی سطح پر خطے میں تناؤ اور مخالفت میں واضح اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔