اسلام آباد میں وفاقی بجٹ سے قبل سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے، تاہم حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان ہونے والے اہم مذاکرات کسی واضح پیش رفت کے بغیر ختم ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کی جانب سے وفاقی بجٹ کے حوالے سے اٹھائے گئے تحفظات تاحال برقرار ہیں اور حکومتی ٹیم انہیں دور کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔
وزارت خزانہ میں ہونے والے اجلاس میں حکومتی نمائندوں اور پیپلز پارٹی کے وفد نے آئندہ مالی سال کے بجٹ سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے شکوہ کیا کہ بجٹ کی تیاری کے عمل میں اسے مناسب طور پر اعتماد میں نہیں لیا گیا حالانکہ وہ حکومتی اتحاد کی ایک اہم جماعت ہے۔ پارٹی رہنماؤں نے بجٹ میں عوامی ریلیف، ترقیاتی منصوبوں اور صوبوں کے مالی حقوق سے متعلق اپنے تحفظات بھی حکومتی نمائندوں کے سامنے رکھے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران نہ تو کسی آئینی ترمیم پر بات چیت ہوئی اور نہ ہی قومی مالیاتی کمیشن میں کسی تبدیلی سے متعلق کوئی معاملہ زیر غور آیا۔ مذاکرات کا بنیادی مقصد بجٹ کے حوالے سے پیدا ہونے والے اختلافات کو کم کرنا اور دونوں فریقوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرنا تھا تاہم اس حوالے سے خاطر خواہ پیش رفت نہ ہو سکی۔
سیاسی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت آئندہ بجٹ کی منظوری سے قبل بعض اہم قانون سازی مکمل کرنا چاہتی ہے جبکہ اتحادی جماعتیں بھی اپنے سیاسی اور انتظامی مطالبات پر زور دے رہی ہیں۔ اسی تناظر میں بعض معاملات پر مشاورت کا عمل جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان مذاکرات کا ایک اور دور آج متوقع ہے جس میں بجٹ سے متعلق اختلافات دور کرنے اور آئندہ کی حکمت عملی طے کرنے کی کوشش کی جائے گی۔