امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں آئندہ ایک ہفتے کے دوران ایران کے ساتھ ایک معاہدہ طے پا جائے گا۔
اے بی سی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے بتایا کہ معاہدے کے تحت جنگ بندی میں توسیع کی جائے گی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحری آمدورفت کے لیے کھول دیا جائے گا۔
ٹرمپ نے اس سے پہلے بھی کہا تھا کہ ایران کے ساتھ امریکی مذاکرات تیزی سے جاری ہیں اور ایرانی فیصلے کے باعث پیغامات کی تعطل کوئی مسئلہ نہیں پیدا کرتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پیغامات کی معطلی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ امریکا دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع کر دے گا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ امریکا ایران کی بحری ناکا بندی جاری رکھے گا اور اس وقت تک انتظار کرے گا جب تک تہران واشنگٹن کی قابلِ قبول شرائط کے تحت معاہدے پر آمادہ نہیں ہو جاتا۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی بڑی تعداد میں ڈرونز موجود ہیں، تاہم اس کی بحریہ عملی طور پر ختم ہو چکی ہے اور ایران کا روایتی دفاعی ڈھانچہ کافی حد تک کمزور ہو چکا ہے۔
مارکو روبیو نے مزید کہا کہ امریکہ اس وقت ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے اور ان مذاکرات کا نتیجہ آنے میں چند دن یا ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔ ان کے مطابق مذاکرات ایک حساس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ نے صرف ایرانی بحری جہازوں پر ناکہ بندی عائد کی ہے اور دنیا کا کوئی بھی بڑا ملک ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے حق میں نہیں ہے، امکان ہے کہ صرف عمان اس معاملے میں ایران کی حمایت کرے۔
انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات میں پہلی اور بنیادی شرط یہ ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے کا اعلان کرے اور یقین دہانی کرائے کہ وہ اس اہم آبی گزرگاہ میں کسی قسم کا ٹول یا فیس وصول نہیں کرے گا۔ مزید برآں، ایران کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اس کے پاس کوئی افزودہ یورینیم موجود نہیں ہوگا۔ روبیو کے مطابق اگر ایران ان شرائط پر آمادہ ہو جاتا ہے تو ہی امریکہ پابندیوں میں نرمی پر غور کرے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ صرف آبنائے ہرمز کھولنے کے بدلے ایران کو پابندیوں میں نرمی نہیں دی جائے گی بلکہ دیگر شرائط کی مکمل پاسداری بھی لازمی ہوگی۔ ایران سے جاری مذاکرات کے نتائج جلد سامنے آنے کی توقع ہے، تاہم حتمی فیصلہ فریقین کے مؤقف پر منحصر ہوگا۔