امریکا نے پاکستان، بھارت سیز فائر میں کردار کو’سفارتکاری کا قابلِ فخر لمحہ‘ قرار دے دیا

امریکا نے پاکستان، بھارت سیز فائر میں کردار کو’سفارتکاری کا قابلِ فخر لمحہ‘ قرار دے دیا

امریکا نے پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ سیز فائر میں اپنے کردار کو سراہتے ہوئے اسے امریکی سفارتکاری کا ایک ’قابلِ فخر لمحہ‘ قرار دیا ہے۔

امریکا میں منگل کو ایک پریس بریفنگ کے دوران امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان، ٹیمی بروس نے بتایا کہ صدر روبیو، نائب صدر ور وزیر خارجہ سمیت اعلیٰ امریکی قیادت کی فوری کارروائی نے 2 ایٹمی طاقتوں کے درمیان ایک ’خوفناک‘ تصادم کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کاپاک-بھارت سیز فائر کا کریڈٹ، کانگریسی رہنماؤں نے مودی کی “پراسرار خاموشی ” پر سوال اٹھا دیا

انہوں نے کہا کہ ’تشویش فوری تھی اور قیادت کی جانب سے فوری قدم اٹھائے گئے، تاکہ حملوں کو روکا جا سکے اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے‘، ٹیمی بروس نے کہا کہ ’انہوں نے اس موقع کو امریکی سفارتکاری کی ایک بہترین مثال قرار دیا اور کہا کہ واشنگٹن نے ’ممکنہ تباہی کو روکنے‘ اور ایک پائیدار حل کی راہ ہموار کرنے میں مدد دی ہے۔

اسلام آباد اور نئی دہلی کے ساتھ تعلقات ’مضبوط اور مستحکم‘

حالیہ کشیدگی کے باوجود، ٹیمی بروس نے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکا کے پاکستان اور بھارت دونوں کے ساتھ تعلقات بدستور ’اچھے‘ ہیں۔ انہوں نے صدر روبیو کی دونوں ممالک کے ساتھ کھلے رابطے کی پالیسی کو سراہا۔

’ہمارے سفارتکار دونوں اقوام کے ساتھ پرعزم ہیں،‘۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انسداد دہشت گردی سمیت کئی شعبوں میں تعاون جاری ہے۔

انسداد دہشتگردی مذاکرات سے پاکستان امریکا تعلقات مزید مضبوط

یہ بریفنگ اسلام آباد میں ہونے والے پاکستان، امریکا انسداد دہشتگردی مذاکرات کے تازہ دور کے بعد دی گئی۔ مذاکرات کی مشترکہ صدارت پاکستان کے اسپیشل سیکریٹری برائے اقوام متحدہ، نبیل منیر اور امریکی قائم مقام کوآرڈینیٹر برائے انسداد دہشتگردی، گریگوری ڈی لوگیرفو نے کی۔

مزید پڑھیں:امریکی صدر کےپاک-بھارت سیز فائر بیان نے مودی سرکار کے “مضبوط قیادت” بیانیئے کو پاش پاش کردیا

مذاکرات میں بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے)، داعش خراسان اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) جیسے خطرات پر غور کیا گیا۔ امریکا نے دہشتگرد نیٹ ورکس کے خلاف پاکستان کی کامیابیوں کو سراہا اور خضدار اسکول بس بم دھماکے اور جعفر ایکسپریس حملے جیسے حالیہ سانحات پر افسوس کا اظہار کیا۔

دونوں فریقین نے ادارہ جاتی صلاحیت کو بہتر بنانے  ابھرتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کی حکمت عملیوں کو بہتر بنانے اور دہشتگرد گروہوں کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کے غلط استعمال پر قابو پانے کے عزم کا اظہار کیا۔

ٹیمی بروس نے اختتام پر کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں کے ساتھ امریکا کا جاری تعاون ’خطے اور دنیا کے لیے خوش آئند‘ ہے اور اس سے ’ایک ایسا مستقبل تشکیل پائے گا جو سب کے لیے فائدہ مند ہو‘۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *