بین الاقوامی سفارتکاری اور علاقائی امن کے محاذ پر پاکستان کو ایک بہت بڑی اسٹرٹیجک کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ امریکی کانگریس مین اور کانگریشنل پاکستان کاکس کے شریک چیئرمین جیک برگمین نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری انتہائی حساس امن مذاکرات میں پاکستان کے ثالثی اور سفارتی کردار کو کھلے دل سے سراہتے ہوئے اسے ’حقیقی مدبرانہ قیادت‘ اور ’ریاستی حکمت عملی کا بہترین مظہر‘ قرار دیا ہے۔
امریکی کانگریس مین جیک برگمین نے پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کے نام ایک باضابطہ اور انتہائی اہم خط ارسال کیا ہے، جس میں کانگریشنل پاکستان کاکس کی جانب سے پاکستان کی انتھک سفارتی کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے خصوصی شکریہ ادا کیا گیا ہے۔
اس اہم ترین خط کا پس منظر مشرقِ وسطیٰ میں دہائیوں سے جاری امریکا اور ایران کی شدید کشیدگی اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ سفارتی حکمتِ عملی سے جڑا ہوا ہے۔
امریکی کانگریس مین جیک برگمین نے اپنے خط میں واشنگٹن اور اسلام آباد کے مابین دیرپا اسٹریٹجک تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ایک مؤثر مؤقف اختیار کرتے ہوئے وہ تاریخی کامیابی حاصل کی ہے جو ماضی کی سابقہ امریکی حکومتیں حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہی تھیں۔
انہوں نے اس بات کا برملا اعتراف کیا کہ پاکستان نے خطے میں اپنے منفرد جغرافیائی اور اسٹریٹجک اثر و رسوخ کا انتہائی مثبت استعمال کیا۔ پاکستان نے اپنی منفرد پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دونوں شدید حریف فریقین (امریکا اور ایران) کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے جو آمادگی اور کردار دکھایا، اس نے عالمی امن کے لیے انتہائی اہم کام کیا۔
خط میں واضح کیا گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس، امریکی صدر، کانگریس اور پوری امریکی انتظامیہ اب عوامی سطح پر پاکستان کے اس تعمیری اور امن پسندانہ کردار کو تسلیم کر چکی ہے۔
خ
کانگریس مین جیک برگمین کے خط کا اصل متن
امریکی رکنِ کانگریس جیک برگمین کی جانب سے بھیجے گئے اس تاریخی خط کا مکمل متن یہ ہے’ میں کانگریس کے پاکستان کاکس کے شریک چیئرمین کے طور پر لکھ رہا ہوں کہ آپ دونوں (وزیراعظم شہباز شریف اور جنرل سید عاصم منیر) نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری امن مذاکرات میں جس مدبرانہ قیادت کا مظاہرہ کیا ہے اس کے لیے میں تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔
صدر ٹرمپ نے وہ کر دکھایا ہے جو ماضی کی انتظامیہ ایران کے جوہری عزائم کا مقابلہ کرنے میں نہیں کر سکی تھی۔ آپ کی شراکت اس کوشش کے لیے ناگزیر رہی ہے۔ پاکستان کے ساتھ امریکا کے تعلقات دیرپا اسٹریٹجک اہمیت کے حامل ہیں اور پاکستان کی جانب سے ان فریقین کو میز پر لانے کے لیے اپنی منفرد پوزیشن کا فائدہ اٹھانے پر آمادگی حقیقی ریاستی حکمت عملی کا مظہر ہے۔
صدر، وائٹ ہاؤس اور کانگریس نے عوامی طور پر اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے اور میں ان جذبات کو پوری طرح سے اجاگر کرتا ہوں۔
کانگریشنل پاکستان کاکس کی جانب سے آپ کا شکریہ، آپ کے اور ہمارے دیرپا تعلقات ہیں۔ میں جلد ہی پاکستان واپس آنے اور ذاتی طور پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کا منتظر ہوں‘۔
آپکا مخلص
جیک برگمین (رکن کانگریس)
عالمی سطح پر پاکستان کی بڑھتی ہوئی ساکھ
واضح رہے کہ اس پیش رفت کو موجودہ حکومت اور عسکری قیادت کی ایک بہت بڑی سفارتی فتح قرار دیا جا سکتا ہے۔ طویل عرصے سے مغربی میڈیا میں پاکستان کے کردار کو لے کر جو منفی پروپیگنڈا کیا جاتا رہا ہے، امریکی کانگریس کے ایک سینیئر رکن کی طرف سے یہ خط اس پراپیگنڈے کا منہ توڑ جواب ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان جوہری اور اقتصادی تنازعات عالمی معیشت اور امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ رہے ہیں۔ پاکستان کا دونوں ممالک کے ساتھ بیک وقت اچھے تعلقات برقرار رکھنا اور انہیں ایک میز پر بٹھا دینا یہ ثابت کرتا ہے کہ واشنگٹن اور تہران دونوں ہی اسلام آباد کی نیت اور اس کی اسٹریٹجک صلاحیت پر مکمل اعتماد کرتے ہیں۔
جیک برگمین کا جلد پاکستان کا دورہ کرنے کا عزم ظاہر کرتا ہے کہ آنے والے دنوں میں پاک امریکا دفاعی، اقتصادی اور سفارتی تعلقات میں مزید گرم جوشی دیکھنے کو ملے گی، جو پاکستان کی گرتی ہوئی معیشت اور خطے میں اس کے گرتے ہوئے سیاسی گراف کو دوبارہ بلند کرنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوگی۔