خیبرپختونخوا حکومت نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری گرین کی پوسٹ تخلیق کرنے اور اس کے زیرِ انتظام چار محکمے لانے کا فیصلہ کر لیا ہے، جبکہ محکمہ جنگلات، ماحولیات اور جنگلی حیات کو بھی دو حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔ اسی طرح دو دیگر محکمے بھی مذکورہ پوسٹ کے تحت ہوں گے۔
ذرائع نے بتایا کہ صوبائی حکومت شاہد زمان کے لیے ایک اہم عہدہ تخلیق کرنا چاہتی ہے جس کے لیے محکمہ جنگلات نے سمری وزیرِاعلیٰ کو ارسال کر دی ہے۔ نیا عہدہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری گرین کے نام سے ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ محکمہ جنگلات سے ماحولیات کو الگ کر کے اس کا ایک الگ سیکرٹری مقرر کیا جائے گا۔ اسی طرح اے سی ایس گرین کے زیرِ انتظام محکمہ لائیو اسٹاک اور زراعت بھی ہوں گے، یوں کل ملا کر چار محکمے اس کے ماتحت آ جائیں گے۔ صوبے میں پہلے ہی ایڈیشنل چیف سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ، اے سی ایس ہوم اور اے سی ایس جنرل کی پوسٹیں تخلیق کی جا چکی ہیں اور اب اے سی ایس گرین کی پوسٹ بھی بنائی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا میں ایک اہم منصوبے کے لیے جاری ہونے والی این او سی واپس لینے کے اقدامات کے باعث وفاق میں موجود ایک افسر اور سیکرٹری فارسٹ شاہد زمان کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ انہیں تبدیل کرنے کے لیے وفاق کی جانب سے صوبے کو خط بھی ارسال کیا گیا ہے تاہم صوبائی حکومت سیکرٹری فارسٹ کو صوبے میں برقرار رکھنا چاہتی ہے۔
سابق سیکرٹری جنگلات نے کچھ اختیارات ایک چیف کنزرویٹر کو منتقل کر دیے تھے جنہوں نے ایک حکم نامہ جاری کیا، اور اس کے تحت تقریباً 23 این او سیز جاری کیے گئے۔ تاہم موجودہ جنگلاتی سیٹ اپ کا خیال ہے کہ چیف کنزرویٹر کی جانب سے جاری کیا گیا حکم نامہ غلط تھا اور اس کے تحت جاری ہونے والے این او سیز بھی غیر درست ہیں، اسی لیے ان این او سیز کو منسوخ کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔
علاوہ ازیں، سیکرٹری جنگلات نے سابق ادوار میں “ووڈ لاٹ اور سائنٹیفک مینجمنٹ پالیسی” کے تحت ہونے والی کٹائی کے معاملے پر 72 ملازمین کو چارج شیٹ کر دیا ہے اور کیس محکمہ اینٹی کرپشن کے سپرد بھی کیا جائے گا۔
رابطہ کرنے پر سیکرٹری جنگلات شاہد زمان نے بتایا کہ اندرونی انکوائری میں کئی امور سامنے آ چکے ہیں اور وہ اس معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں، تاہم ان کی کوشش ہے کہ جنگلات کو محفوظ بنایا جا سکے۔