نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جدہ میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس کے موقع پر ترکیہ کے وزیر خارجہ حکان فیدان سے ملاقات کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور کثیرالجہتی تعاون کے فروغ کے عزم کا اعادہ کیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے علاقائی امور میں ترکیہ کے قائدانہ کردار کو سراہا اور مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے انقرہ کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
دونوں وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے محصور آبادی تک فوری اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی پر زور دیا۔
او آئی سی کے غیر معمولی اجلاس سے اپنے خطاب میں اسحاق ڈار نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ’گریٹر اسرائیل‘ کے بیان کو خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر مکمل فوجی کنٹرول کا اصرار ایک ’جارحانہ اور غاصبانہ ذہنیت‘ کو ظاہر کرتا ہے، جو بین الاقوامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔
اسحاق ڈار نے نیتن یاہو کے بیانات کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان سے نہ صرف انسانی المیہ مزید سنگین ہوگا بلکہ امن کی کوششیں بھی متاثر ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان فلسطینیوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے اور عالمی سطح پر ہر فورم پر ان کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتا رہے گا۔