امریکی حکام نے اعلان کیا کہ امریکی فوجیوں پر مہلک حملوں اور ایک امریکی صحافی کے اغوا میں ملوث سابق طالبان کمانڈر حاجی نجیب اللہ کو وفاقی عدالت نے 42 سال قید کی سزا سنائی ہے۔
50 سالہ نجیب اللہ، جو مختلف ناموں جیسے ’نجیب اللہ نعیم‘، ’ابو طیب‘ اور ’عتیق اللہ‘ سے بھی جانا جاتا تھا، نے اپریل میں یرغمال بنانے اور دہشت گردی کے ایسے اقدامات میں معاونت کا جرم قبول کیا تھا جن کے نتیجے میں ہلاکتیں ہوئیں۔ سزا امریکی ڈسٹرکٹ جج کیتھرین پولک فائیلا نے سنائی۔
استغاثہ کے مطابق نجیب اللہ 2007 سے 2009 کے درمیان افغانستان کے صوبہ وردک میں طالبان کمانڈر تھا، جہاں اس کے ماتحت جنگجو امریکی، نیٹو اور افغان فورسز پر خودکش حملوں، دیسی ساختہ بموں، راکٹ پروپلڈ گرینیڈز اور خودکار ہتھیاروں کے ذریعے حملے کرتے تھے۔
امریکا کے وفاقی عدالتی حکام کے مطابق 26 جون 2008 کو نجیب اللہ کے ماتحت طالبان جنگجوؤں نے صوبہ وردک میں امریکی فوجی قافلے پر گھات لگا کر حملہ کیا، جس میں 3 امریکی فوجی، سارجنٹ فرسٹ کلاس میتھیو ایل ہلٹن، جوزف اے مک کے، اور سارجنٹ مارک پاملیٹر اپنے افغان مترجم سمیت ہلاک ہوگئے، جبکہ کئی دیگر اہلکار زخمی ہوئے۔
تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ نجیب اللہ بعد میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فخر سے اپنے جنگجوؤں کو خودکش مشن کے لیے تیاری کا حکم دیتا تھا۔
سابق طالبان کمانڈر کو 2008 میں ایک امریکی صحافی اور 2 افغان شہریوں کے اغوا کے جرم میں بھی سزا سنائی گئی۔ ان افراد کو افغانستان میں اسلحے کے زور پر اغوا کیا گیا اور تقریباً 7 ماہ تک پاکستان کے قبائلی علاقوں میں طالبان کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں قید رکھا گیا۔
امریکی استغاثہ کے مطابق دورانِ قید یرغمالیوں کو مسلح محافظوں کی نگرانی میں رکھا گیا اور ان سے تاوان اور ’زندہ ہونے کے ثبوت‘ پر مبنی ویڈیوز ریکارڈ کروائی گئیں تاکہ امریکا پر طالبان قیدیوں کی رہائی اور تاوان کی ادائیگی کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔ ایک ویڈیو میں امریکی صحافی نے اپنی جان بچانے کی اپیل کی تھی۔
بعد ازاں تینوں یرغمالی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے اور بحفاظت اپنے اہل خانہ کے پاس پہنچ گئے۔ قائم مقام امریکی اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش نے کہا کہ یہ سزا اس بات کا ثبوت ہے کہ ’جو لوگ امریکیوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور دہشتگردی میں ملوث ہوتے ہیں، انہیں چاہے کتنا ہی وقت لگ جائے، انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا‘۔
ایف بی آئی ڈائریکٹر کاش پٹیل نے نجیب اللہ کو ایسا دہشت گرد قرار دیا جو امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کا ذمہ دار تھا، اور کہا کہ امریکی ادارے دنیا بھر میں دہشت گردوں کا تعاقب جاری رکھیں گے۔
قومی سلامتی کے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل جان اے آئزنبرگ نے کہا کہ یہ سزا متاثرہ خاندانوں کے لیے ’جزوی انصاف‘ فراہم کرتی ہے، جبکہ جنوبی نیویارک کے امریکی اٹارنی جے کلیٹن نے کہا کہ نجیب اللہ کے جرائم نے متاثرین اور ان کے اہل خانہ کو ’ناقابلِ تصور نقصان‘ پہنچایا۔
اس کیس کی تحقیقات ایف بی آئی کی نیویارک جوائنٹ ٹیررازم ٹاسک فورس نے دیگر امریکی اداروں اور بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے کیں، جن میں یوکرینی حکام بھی شامل تھے جنہوں نے نجیب اللہ کی گرفتاری اور امریکا منتقلی میں مدد فراہم کی۔ نجیب اللہ اپنی قید مکمل کرنے کے بعد 5 سال تک نگرانی میں بھی رہے گا۔