حکومت نے آئندہ مالی سال کے دوران بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے مستحق خاندانوں کو مزید ریلیف فراہم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے سہ ماہی قسط 18 ہزار روپے تک بڑھانے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات کو کم کرنا اور کم آمدنی والے خاندانوں کی مالی معاونت کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
ذرائع کے مطابق نئے مالی سال کے آغاز سے بی آئی ایس پی کے بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا جائے گا تاکہ پروگرام کے تحت مستحق خاندانوں کو زیادہ مالی سہولت فراہم کی جا سکے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ معاشی مشکلات کے شکار طبقات کی معاونت ریاست کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے لیے سماجی تحفظ کے پروگراموں کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔
دریں اثنا بی آئی ایس پی کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے کہا ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کے لاکھوں غریب اور مستحق خاندانوں کے لیے معاشی تحفظ کی ایک اہم ضمانت بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام نہ صرف مالی معاونت فراہم کرتا ہے بلکہ خواتین کو بااختیار بنانے اور ان کی معاشی خودمختاری میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے پروگرام کے خلاف کیے جانے والے منفی پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بی آئی ایس پی مکمل شفافیت کے ساتھ مستحق افراد تک امداد پہنچا رہا ہے اور اس حوالے سے گمراہ کن معلومات پھیلانے کی کوششیں قابل مذمت ہیں۔
روبینہ خالد نے مزید بتایا کہ ادائیگیوں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے جولائی 2026 سے بی آئی ایس پی کی تمام رقوم صرف ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے مستحقین تک پہنچائی جائیں گی۔ اس اقدام سے ادائیگیوں میں شفافیت، سہولت اور رفتار میں اضافہ ہوگا جبکہ مستحقین کو طویل قطاروں اور غیر ضروری مشکلات سے بھی نجات ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل نظام کے نفاذ سے مالیاتی شمولیت کو فروغ ملے گا اور مستحق خواتین جدید بینکاری سہولیات سے بھی مستفید ہو سکیں گی۔ حکومت کی کوشش ہے کہ سماجی تحفظ کے نظام کو مزید مؤثر، شفاف اور عوام دوست بنایا جائے تاکہ امداد حقیقی مستحقین تک بروقت پہنچ سکے۔