تیل کے ہنگامی ذخائر ختم ہونے کے قریب، ’بین الاقوامی توانائی ایجنسی‘ نے ایندھن کے بدترین بحران کا عندیہ دیدیا

تیل کے ہنگامی ذخائر ختم ہونے کے قریب، ’بین الاقوامی توانائی ایجنسی‘ نے ایندھن کے بدترین بحران کا عندیہ دیدیا

عالمی سطح پر خام تیل کے اسٹریٹجک اور تجارتی ذخائر میں تیزی سے ہونے والی کمی نے دنیا بھر کی معیشتوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ بین الاقوامی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک اور بڑے اور بے قابو اضافے کا سنگین خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

معاشی اور توانائی کے شعبے کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور خاص طور پر ’آبنائے ہرمز‘ کے اہم ترین بحری راستے سے تیل کی سپلائی اور ترسیل فوری طور پر بحال نہ کی گئی تو عالمی معیشت کو شدید ترین معاشی جھٹکوں اور کساد بازاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

’ایکسن موبل‘ کے سینیئر نائب صدر کی بڑی وارننگ

عالمی میڈیا کے مطابق امریکی آئل کمپنی ’ایکسن موبل‘ کے سینیئر نائب صدر ’نیل چیپ مین‘ نے نیویارک میں منعقدہ ’برنسٹین انویسٹر کانفرنس‘ سے خطاب کرتے ہوئے ایک انتہائی تشویشناک انتباہ جاری کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:حکومت کا بڑا ریلیف، پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مزید دو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان

انہوں نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ اگر عالمی سپلائی چین میں تعطل اور ذخائر میں کمی کا موجودہ سلسلہ اگلے چند ہفتوں تک اسی طرح جاری رہا تو ’برنٹ خام تیل‘ کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح یعنی 150 سے 160 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا اس وقت تیل کے ایسے کم ترین ذخائر کی طرف بڑھ رہی ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے اور اب صورتحال آپریشنل حدوں سے بھی نیچے گرنے کے قریب ہے۔

’بین الاقوامی توانائی ایجنسی‘ کی رپورٹ اور سپلائی چین کا بحران

رواں سال 2026 میں ایران کے ساتھ جاری تنازع کے نتیجے میں ’آبنائے ہرمز‘ میں بحری آمدورفت شدید محدود ہو چکی ہے، جس سے روزانہ تقریباً 14 ملین بیرل تیل عالمی مارکیٹ سے غائب ہو چکا ہے۔

’بین الاقوامی توانائی ایجنسی‘ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں اس بحران کو عالمی توانائی کی تاریخ کا سب سے بڑا تعطل قرار دیا ہے۔

ایجنسی کا کہنا ہے کہ موسم گرما کے آغاز کے ساتھ ہی ایندھن کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ مختلف ممالک کی جانب سے اپنے ہنگامی اسٹریٹجک ذخائر کا استعمال بھی اب ختم ہونے کے قریب ہے، جس کی وجہ سے منڈیوں پر دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

پس منظر اور موجودہ صورتحال کا تناظر

’آبنائے ہرمز‘ دنیا کی معاشی شہ رگ مانی جاتی ہے کیونکہ دنیا بھر کے سمندری راستے سے سپلائی ہونے والے کل تیل کا تقریباً 20 فیصد اسی تنگ آبی راستے سے گزرتا ہے۔

سال 2026 کے آغاز سے شروع ہونے والے علاقائی تنازع کے بعد اس راستے پر تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

اگرچہ متعدد بڑی معیشتوں نے اپنے محفوظ ذخائر منڈی میں لا کر قیمتوں کو کچھ عرصے کے لیے 90 سے 110 ڈالر کے درمیان روکنے کی کوشش کی، تاہم ماہرین کے مطابق یہ ایک عارضی سہارا تھا جو اب اپنی مدت پوری کر رہا ہے۔

اب جبکہ تجارتی گودام خالی ہو رہے ہیں، دنیا بھر کے سرمایہ کار مہنگائی، شرح سود میں اضافے اور عالمی معاشی شرح نمو میں ممکنہ گراوٹ کی وجہ سے شدید خوف زدہ ہیں۔

پیٹرولیم مصنوعات 500 روپے تک پہنچنے کا امکان

عالمی سطح پر تیل کے اس سنگین بحران کے براہِ راست اور انتہائی منفی اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہونے جا رہے ہیں۔ پاکستان چونکہ اپنی توانائی کی ضروریات کا ایک بہت بڑا حصہ درآمدی خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات سے پورا کرتا ہے، اس لیے بین الاقوامی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی مقامی سطح پر ایک بڑا طوفان کھڑا کر دیتا ہے۔

مزید پڑھیں:پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کے استعمال کا دو دہائیوں کا ریکارڈ ٹوٹ گیا،حیران کن اعداد وشمار

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ’آبنائے ہرمز‘ کی صورتحال معمول پر نہ آئی اور عالمی سطح پر برنٹ آئل 150 ڈالر سے تجاوز کر گیا، تو پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں 450 سے لے کر 500 روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی ہیں۔

مقامی سطح پر اتنے بڑے اضافے سے نہ صرف ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھیں گے بلکہ عام صارفین کے روزمرہ کے اخراجات، بجلی کی قیمتوں اور کاروباری سرگرمیوں پر بھی انتہائی تباہ کن اثرات پڑیں گے، جس سے ملک میں مہنگائی کی ایک نئی اور شدید لہر جنم لے سکتی ہے۔

موجودہ صورتحال کا اگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ سال 2026 کا یہ توانائی بحران محض ایک عارضی سپلائی جھٹکا نہیں بلکہ عالمی جغرافیائی سیاست کی بدلی ہوئی حقیقتوں کا مظہر ہے۔

دنیا اب یہ سمجھنے پر مجبور ہو گئی ہے کہ حیاتیاتی ایندھن پر حد سے زیادہ انحصار کس قدر خطرناک ہو سکتا ہے۔ ’ایکسن موبل‘ اور دیگر بڑے اداروں کے انتباہات یہ بتاتے ہیں کہ منڈی اس وقت بارود کے ڈھیر پر بیٹھی ہے، جہاں سپلائی اور طلب کا توازن مکمل طور پر بگڑ چکا ہے۔

پاکستان جیسی ترقی پذیر معیشت کے لیے یہ بحران ایک دو دھاری تلوار کی مانند ہے، جہاں ایک طرف زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھے گا اور دوسری طرف اندرونی مہنگائی عوام کی قوتِ خرید کو کچل کر رکھ دے گی۔ جب تک سفارتی سطح پر ’آبنائے ہرمز‘ کا راستہ محفوظ اور بحال نہیں کیا جاتا، تب تک عالمی اور مقامی منڈیاں اسی غیر یقینی اور معاشی خوف کا شکار رہیں گی۔

Related Articles