سوشل میڈیا پر ایک منفرد تصور نے صارفین کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہےجس میںمراکش کے ایک صحرائی گاؤں میں بجلی کے اسٹریٹ لائٹس کے بغیر چاندنی کی روشنی سے گلیوں کو روشن کرنے کا منفرد تصور اپنایا گیا ہے۔
اس تصور کے مطابق گھروں اور گلیوں میں ایسے عکاس آئینے نصب کیے جائیں جو چاند کی روشنی کو منعکس کر کے تنگ راستوں تک پہنچائیں، جس سے رات کے وقت مصنوعی روشنی کی ضرورت کم ہو اور توانائی کی بچت بھی ممکن ہو سکے۔
یہ خیال ماحول دوست اور پائیدار طرزِ زندگی کی ایک مثال کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جہاں قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے توانائی کے استعمال اور ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
سوشل میڈیا صارفین اس تصور کو سراہ رہے ہیں اور اسے مستقبل کے ماحول دوست شہروں اور دیہات کے لیے ایک دلچسپ خیال قرار دے رہے ہیں، جبکہ بعض افراد کا کہنا ہے کہ اس کی عملی افادیت اور مؤثریت پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ اس دعوے یا تصور کے عملی طور پر کسی مخصوص گاؤں میں نافذ ہونے کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں، تاہم یہ ماحول دوست تعمیرات اور پائیدار ترقی کے حوالے سے ایک دلچسپ بحث ضرور چھیڑ رہا ہے۔