جدید تحقیق نے 40 سال پرانی سائنسی غلطی درست کر دی

جدید تحقیق نے 40 سال پرانی سائنسی غلطی درست کر دی

سائنس دانوں نے تقریباً 40 برس قبل انٹارکٹیکا سے دریافت ہونے والے ایک فوسل کے بارے میں اہم انکشاف کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ یہ براعظم سے ملنے والی پہلی ڈائنوسار کی ہڈی تھی، جسے ابتدائی تحقیق میں غلط شناخت کے باعث آرکائیوز میں محفوظ کر دیا گیا تھا۔

یہ فوسل 1985 میں برٹش انٹارکٹک سروے کی ایک سائنسی مہم کے دوران جیمز روس آئی لینڈ سے دریافت ہوا تھا۔ تاہم اس وقت ماہرین نے اسے غلطی سے کسی قدیم رینگنے والے جانور کی ہڈی قرار دے دیا، جس کے بعد اسے مزید تحقیق کے بغیر ادارے کے جیولوجی آرکائیو میں محفوظ کر دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں :انٹارکٹیکا کی پراسرارسرخ آبشار کی حقیقت سامنے آگئی

چار دہائیوں بعد جدید سائنسی تجزیے اور نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے معلوم ہوا کہ یہ ہڈی دراصل ایک ٹائٹینوسار کی دم کے مہرے کا حصہ ہے۔ ٹائٹینوسار لمبی گردن، لمبی دم اور دیوہیکل جسم رکھنے والے سوروپوڈ ڈائنوسار کے مشہور گروہ سے تعلق رکھتے تھے، جو کروڑوں سال پہلے زمین پر موجود تھے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریافت انٹارکٹیکا میں ڈائنوسارز پر ہونے والی تحقیق کے لیے غیرمعمولی اہمیت رکھتی ہے۔ اس سے قبل پورے براعظم سے سوروپوڈ ڈائنوسار کی صرف ایک ہڈی دریافت ہوئی تھی، جبکہ اب اس دریافت نے خطے میں قدیم حیات کے بارے میں مزید تحقیق کے نئے امکانات پیدا کر دیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :زمین کے لیے خطرہ بننے والے سیارچے سے نمٹنے کا مؤثر حل سامنے آگیا

نیچرل ہسٹری میوزیم سے وابستہ ماہر حیاتیات پال بیریٹ کے مطابق یہ حیران کن بات ہے کہ انٹارکٹیکا سے دریافت ہونے والی پہلی ڈائنوسار کی ہڈی کئی دہائیوں تک غلط شناخت کی وجہ سے نظر انداز رہی۔

انہوں نے کہا کہ سخت موسمی حالات اور اس وقت دستیاب محدود تحقیق کے باعث ابتدائی طور پر اس ہڈی کی درست شناخت نہیں ہو سکی، تاہم جدید سائنسی تجزیے نے واضح کر دیا ہے کہ یہ واقعی ایک سوروپوڈ ڈائنوسار، یعنی ٹائٹینوسار، کی ہڈی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :ہرن کی آنکھوں کو شیر کس رنگ کا دکھائی دیتا ہے؟ حیران کن انکشاف

ماہرین کے مطابق یہ دریافت نہ صرف انٹارکٹیکا کی قدیم حیاتیاتی تاریخ کو سمجھنے میں مدد دے گی بلکہ مستقبل میں براعظم میں ڈائنوسارز سے متعلق مزید اہم دریافتوں کی راہ بھی ہموار کر سکتی ہے۔

editor

Related Articles