اسلام آباد خودکش حملہ آور دہشتگرد کہاں سے تھا؟، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بتا دیا

اسلام آباد خودکش حملہ آور دہشتگرد کہاں سے تھا؟، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بتا دیا

وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والا خودکش حملہ ایک غیر ملکی دہشتگرد نے کیا، اور ابتدائی شواہد کے مطابق حملہ آور پاکستانی شہری نہیں تھا۔

نجی ٹی وی کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں طلال چوہدری نے انکشاف کیا کہ وانا اور اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ حملوں کی تحقیقات میں بھارت اور افغانستان کے ممکنہ کردار کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان شواہد کو متعلقہ ثالث ممالک کے ساتھ شیئر کرے گی تاکہ دہشتگردی کے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:وانا کیڈٹ کالج پر حملہ، اسلام آباد جی الیون کچہری خود کش دھماکہ، تانے بانے بھارت سے جا ملے

وزیرِ مملکت نے کہا کہ ’ہم نے شواہد کی بنیاد پر بھارت اور افغانستان کے نام لیے ہیں، الزامات لگانے کے بجائے ہم حقائق کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے اور اس معاملے پر بین الاقوامی برادری کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گا۔

طلال چوہدری نے خیبر پختونخوا حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کا فرض ہے کہ وفاق کے ساتھ ایک پیج پر رہے تاکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ مؤثر انداز میں لڑی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ’سہیل آفریدی نے کبھی یہ نہیں کہا کہ وہ دہشتگردی کے معاملے پر اپنے لیڈر سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں، وانا اور اسلام آباد کے حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کے لیے کسی ملاقات کی ضرورت نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔‘

واضح رہے کہ دو روز قبل اسلام آباد کے جی-11 سیکٹر میں کچہری کے قریب خودکش دھماکے کے نتیجے میں 12 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔ دھماکے کے بعد سیکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی تھیں۔

مزید پڑھیں:کیڈٹ کالج وانا میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کیسے کامیاب ہوا، کمانڈر کرنل محمد طاہر نے تفصیل بتادی

ذرائع کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے حملے میں ملوث گروہ کے نیٹ ورک تک پہنچنے کے لیے مختلف شہروں میں چھاپے مار رہے ہیں۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی فرانزک رپورٹ سے بھی اشارے ملے ہیں کہ حملہ آور غیر ملکی تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق طلال چوہدری کا بیان اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ حکومت پاکستان خطے میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات کو علاقائی سطح پر ہونے والی سرگرمیوں سے جوڑ کر دیکھ رہی ہے اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ان کے تدارک کی کوشش کر رہی ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *