پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا حکومت کو جلسوں اور سیاسی سرگرمیوں میں سرکاری وسائل استعمال کرنے سے روک دیا
پشاور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں کے پی حکومت کو جلسوں، سیاسی اجتماعات اور عوامی رابطہ مہم میں سرکاری وسائل کے استعمال سے روک دیا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ سرکاری بجٹ، گاڑیوں، عملے اور دیگر حکومتی سہولتوں کو کسی بھی سیاسی جماعت یا حکومتی جماعت کے جلسوں اور تقاریر کے لیے استعمال کرنا آئین اور قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
یہ حکم ایک شہری کی جانب سے دائر درخواست پر جاری کیا گیا جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ حکومت کے چند وزراء اور عہدیداران صوبائی بجٹ سے چلنے والے وسائل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں، جو شفافیت، غیر جانبداری اور عوامی مفاد کے تقاضوں کے منافی ہے۔
عدالت نے اس درخواست کی سماعت کے دوران صوبائی حکومت، چیف سیکریٹری اور متعلقہ حکام سے جواب طلب کرنے کے ساتھ ساتھ فوری طور پر پابندی کے احکامات جاری کیے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ ریاست کے وسائل عوام کی امانت ہیں، جنہیں سیاسی فائدے یا انتخابی مہم کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔