آزادکشمیر کی سیاست میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وزیراعظم چوہدری انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی گئی ہے۔یہ تحریک پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی کی جانب سے اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروائی گئی جس پر 17 سے زائد اراکین کے دستخط موجود ہیں۔
عدم اعتماد کی تحریک جمع کرانے والوں میں جاوید ایوب، قاسم مجید، رفیق نیئر، ملک ظفر اور علی شان سونی سمیت دیگر اراکین شامل ہیں۔
تحریک کے جمع ہوتے ہی آزاد کشمیر کی اسمبلی اور سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے اور آئندہ چند دن سیاسی طور پر انتہائی اہم تصور کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے وزیراعظم آزاد کشمیر کے لیے فیصل ممتاز راٹھور کو باضابطہ طور پر نامزد کر دیا ہےفیصل راٹھور اس وقت پارٹی کے سیکرٹری جنرل اور اسمبلی کے فعال رکن ہیں اور انہیں پیپلز پارٹی کی قیادت کا بھرپور اعتماد حاصل ہے۔
قبل ازیں اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما راجہ پرویز اشرف نے بتایا کہ پارٹی نے مشاورت کے بعد تحریک عدم اعتماد جمع کرانے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے کہا پیپلز پارٹی ہمیشہ مشاورت کے ساتھ فیصلے کرتی ہے۔
تحریک عدم اعتماد جمع کرا دی گئی ہے اور آزاد کشمیر میں ہم حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہیںہمارے پاس مطلوبہ تعداد پوری ہےکسی اور جماعت کی حمایت کی ضرورت نہیں۔
راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ کشمیری عوام ہمیشہ پیپلز پارٹی کے دل کے قریب رہے ہیں اور پارٹی کی کوشش ہوگی کہ نئی حکومت عوامی مسائل کے حل میں نئی پیش رفت لائے۔
تحریک عدم اعتماد جمع ہونے کے بعد آئندہ 14 دن کے اندر اجلاس بلایا جائے گا جس میں وزیراعظم کے خلاف ووٹنگ ہوگی۔
اگر تحریک کامیاب ہو جاتی ہے تو فیصل ممتاز راٹھور کے وزیراعظم منتخب ہونے کے امکانات روشن ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق پیپلز پارٹی کے اعتماد بھرے لہجے اور عددی برتری کے دعوے سے واضح ہے کہ آزاد کشمیر کی حکومت میں تبدیلی کے مضبوط امکانات ہیں۔
آنے والے دنوں میں آزاد کشمیر کی سیاست فیصلہ کن موڑ پر داخل ہونے جا رہی ہے اور سیاسی سرگرمیوں میں مزید تیزی متوقع ہے۔