اسپیس ایکس کے حریف بلیو اوریجن کو بڑا نقصان

اسپیس ایکس کے حریف بلیو اوریجن کو بڑا نقصان

امریکی ارب پتی کاروباری شخصیت جیف بیزوس کی خلائی کمپنی بلیو اوریجن کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب اس کا ’’نیو گلین‘‘ راکٹ فلوریڈا میں آزمائشی ٹیسٹ کے دوران دھماکے سے تباہ ہوگیا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ 28 مئی کو فلوریڈا کے کیپ کیناویرل اسپیس فورس اسٹیشن کے اسپیس لانچ کمپلیکس 36 میں پیش آیا۔ راکٹ پر لانچ سے قبل’’ اسٹیٹک فائر ٹیسٹ‘‘ کیا جا رہا تھا، جس کے دوران اچانک ایک غیر معمولی خرابی پیدا ہوئی اور زور دار دھماکا ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں :زمین کے بعد چاند پر رہائش؟ ناسا کا منصوبہ سامنے آگیا

بلیو اوریجن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ٹیسٹ کے دوران راکٹ میں ایک تکنیکی خرابی (Anomaly) رونما ہوئی، تاہم تمام عملہ محفوظ رہا اور کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

حکام کے مطابق دھماکے کے فوراً بعد ہنگامی امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور صورتحال کو قابو میں لیا گیا۔ واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ بلیو اوریجن، اسپیس فورس اور دیگر متعلقہ ادارے دھماکے کی وجوہات جاننے کے لیے ڈیٹا کا جائزہ لے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :اے آئی کی دنیا میں نئی صف بندی، روس نے بڑا اعلان کر دیا

جیف بیزوس نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ دھماکے کی اصل وجہ کیا تھی، تاہم کمپنی نے تحقیقات کا عمل شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ جو کچھ نقصان ہوا ہے اسے دوبارہ تعمیر کیا جائے گا اور پروگرام کو آگے بڑھایا جائے گا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ آزمائشی ٹیسٹ آئندہ ہفتے ہونے والے ایک سیٹلائٹ مشن سے قبل کیا جا رہا تھا۔ دھماکے کے وقت راکٹ میں اصل پے لوڈ موجود نہیں تھا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مستقبل کے اس مشن میں ایمیزون کے 48 سیٹلائٹس خلا میں بھیجے جانے تھے۔

یہ بھی پڑھیں :میٹا کیجانب سے واٹس ایپ، فیس بک اور انسٹا گرام صارفین کیلئے بڑا اعلان

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے کے نتیجے میں ایک بڑا آتش گیر گولہ فضا میں بلند ہوا جبکہ قریبی علاقوں میں موجود گھروں تک دھماکے کی شدت محسوس کی گئی۔

یہ واقعہ بلیو اوریجن کے نیو گلین پروگرام کے لیے ایک اور بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔ یہ راکٹ کمپنی کی جانب سے بھاری وزن خلا میں لے جانے والی مارکیٹ میں مقابلے کی حکمت عملی کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے، جہاں اسے دیگر نجی خلائی کمپنیوں سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔

editor

Related Articles