پاکستان نے ’آئی ایم ایف ‘ کی بڑی شرط پوری کردی

پاکستان نے ’آئی ایم ایف ‘ کی بڑی شرط پوری کردی

پاکستان نے اپنے 7 ارب ڈالر کے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے اگلے مرحلے کی منظوری سے قبل عالمی مالیاتی ادارے کی اہم اور بنیادی شرط پوری کرتے ہوئے ’گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ رپورٹ‘ جاری کر دی ہے۔

پاکستان کی جانب سے جاری رپورٹ میں  ملکی معیشت اور ادارہ جاتی کارکردگی کو دہائیوں سے متاثر کرنے والی کمزوریوں کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا گیا ہے اور شفافیت و احتساب کو مضبوط بنانے کے لیے جامع اصلاحات کا خاکہ بھی دیا گیا ہے۔

دہائیاں پرانا کرپشن کا ڈھانچہ

’آئی ایم ایف‘ اور ’ورلڈ بینک‘ کی معاونت سے تیار کردہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ 70 برسوں سے بدعنوانی نے پاکستان کی معاشی ترقی، ادارہ جاتی کارکردگی اور عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ طاقتور حلقے اور سرکاری اداروں سے وابستہ گروہ سب سے خطرناک بدعنوانی میں ملوث ہیں، جو سرکاری وسائل کے غلط استعمال اور مارکیٹ میں بگاڑ کا باعث بنتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اثاثے ظاہر کرنے کا دائرہ کار سپیشل پے سکیل افسران تک بڑھا یا جائے:آئی ایم ایف کا مطالبہ

رپورٹ پر کام کرنے والے حکام نے بتایا کہ سب سے خطرناک قسم کی بدعنوانی ایسے طاقتور گروہوں یا ریاستی اداروں سے منسلک عناصر کی جانب سے سامنے آتی ہے جو سرکاری وسائل میں خرد برد، مارکیٹ میں بگاڑ اور من پسند فیصلوں کے ذریعے غیر منصفانہ مقابلے کو روکتے ہیں۔

مالیاتی اور ادارہ جاتی کمزوریاں

رپورٹ میں مالیاتی اور ادارہ جاتی کمزوریوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں ٹیکس نظام کی غیر مؤثریت، سرکاری اخراجات کی ناقص نگرانی، آڈٹ سسٹم کی کمزوری اور کچھ اداروں کا نگرانی کے بغیر بجٹ استعمال کرنا شامل ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ مسائل حکومت کو مزید قرض لینے پر مجبور کرتے ہیں، جس سے معاشی خطرات میں اضافہ ہوتا ہے۔

گورننس اور احتساب کا بحران

رپورٹ میں احتسابی اداروں، خصوصاً نیب، کی کارکردگی کو بھی غیر مستقل اور غیر مؤثر قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومتی فیصلوں میں شفافیت کم جبکہ پالیسی سازی میں عوامی شرکت نہ ہونے کے برابر ہے۔ عدالتی نظام پر اعتماد میں کمی بھی احتساب کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔

معاشی اثرات تشویش ناک

نجی شعبے کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 11.1 فیصد کاروباری ادارے بدعنوانی کو سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے ہیں، جو جنوبی ایشیا کے اوسط سے کہیں زیادہ ہے۔ پیچیدہ کاروباری قوانین اور غیر واضح بیرونی تجارت کے ضابطے سرمایہ کاری اور نجی شعبے کی ترقی میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں:پاکستان کے تجارتی اعداد و شمار میں تضاد، آئی ایم ایف کی تکنیکی معاونت مشن بھیجنے کی پیشکش

اصلاحات کا جامع لائحہ عمل

رپورٹ میں اصلاحات کا جامع لائحہ عمل پیش کیا گیا ہے، جس میں انسدادِ بدعنوانی اداروں کو خود مختار اور مضبوط بنانا، اوپن ڈیٹا سسٹم کے ذریعے معلومات کی دستیابی بڑھانا، قوانین کو آسان بنانا، سرکاری عمل کو ڈیجیٹل کرنا، نجی شعبے کا کردار بڑھانا اور بیرونی تجارت کے قوانین کو شفاف بنانا شامل ہے۔ ماہرین کے مطابق ان اصلاحات پر عمل درآمد سے پاکستان کی جی ڈی پی میں 5 سے 6.5 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے اور بدعنوانی میں نمایاں کمی آئے گی۔

معاشی استحکام کی طرف پیش رفت

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ’آئی ایم ایف‘ پروگرام کے تحت کئی اہداف پہلے ہی حاصل کیے ہیں، جن میں زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری، مہنگائی میں کمی اور بنیادی مالیاتی سرپلس شامل ہیں۔ رپورٹ کو ان اقدامات کی تسلسل اور معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان کے لیے فیصلہ کن لمحہ

’گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ رپورٹ‘ پاکستان کے لیے ایک شفاف، مضبوط اور پائیدار معاشی ڈھانچے کی طرف اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت مذکورہ اصلاحات پر سنجیدگی سے عمل کرے تو پاکستان زیادہ مستحکم اور شفاف معاشی مستقبل کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *