اثاثے ظاہر کرنے کا دائرہ کار سپیشل پے سکیل افسران تک بڑھا یا جائے:آئی ایم ایف کا مطالبہ

اثاثے ظاہر کرنے کا دائرہ کار سپیشل پے سکیل افسران تک بڑھا یا جائے:آئی ایم ایف کا مطالبہ

آئی ایم ایف نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کہ اثاثہ جات ظاہر کرنے (ایسٹ ڈیکلیریشن) کا دائرہ سپیشل پے سکیل پر تعینات افسران تک بڑھایا جائے ۔

تفصیلات کے مطابق وفاق اور صوبوں میں سپیشل پے سکیل پر کام کرنے والے افسران کو بھی اپنے اثاثے ظاہر کرنا ہوں گے ۔ مختلف عہدوں پر تعینات ڈائریکٹرز، لیگل ایڈوائزرز، پراجیکٹ ڈائریکٹرز، سپیشل ایکسپرٹس سمیت سپیشل پروفیشنل پے سکیل پر تعینات افسران کو گریڈ 17 سے 22 تک کے سرکاری افسران کی طرح اثاثے ڈیکلیئر کرنا ہوں گے ۔

ذرائع کے مطابق ایسٹ ڈیکلیریشن کے دوسرے مرحلے میں سپیشل پے سکیل پر تعینات افسران کو شامل کرنے پر ورکنگ کی جائے گی۔ سرکاری افسران کے اثاثے ظاہر کرنے کے طریقہ کار پر آئی ایم ایف نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور وفاق و صوبوں میں اثاثے ظاہر کرنے کے لیے ایک مربوط نظام بنانے کا مطالبہ کیا ہے ۔

حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کو سرکاری ملازمین کے صرف بینک اکاؤنٹس کی معلومات دینے کی تجویز پر آئی ایم ایف نے مؤقف اختیار کیا کہ بینک اکاؤنٹس اور اثاثے اہلِ خانہ یا دیگر افراد کے نام پر بھی ہو سکتے ہیں۔

آئی ایم ایف نے بینک اکاؤنٹس کی معلومات شیئر یا پبلک کرنے کو نامکمل قرار دیتے ہوئے شفافیت نہ ہونے کی نشاندہی کی۔اثاثے ظاہر کرنے کے میکنزم پر آئی ایم ایف مشن کا کہنا تھا کہ سرکاری افسران کے بینک اکاؤنٹس میں معلومات کم ہوں گی اور ان کے دیگر ناموں پر بھی بینک اکاؤنٹس اور اثاثے موجود ہو سکتے ہیں۔

اس لیے وفاق اور صوبوں میں سرکاری افسران کے اثاثے ظاہر کرنے کے نظام کو مربوط کیا جائے تاکہ تمام افسران کے اثاثے ایک پلیٹ فارم سے چیک کیے جا سکیں۔دستاویز کے مطابق پنشن اصلاحات کے تحت آئندہ دس برسوں میں پنشن کے لیے مختص اخراجات میں تقریباً 13 فیصد کمی ہوگی۔

کنٹری بیوٹری پنشن سکیم کے تحت اب تک 8 ہزار 914 ملازمین بھرتی کیے جا چکے ہیں اور آئندہ بھرتیاں بھی اسی نظام کے تحت ہوں گی۔

مزید پڑھیں: آئی ایم ایف کی مخالفت، پاکستان کے 6 ارب ڈالر کے ریفائنری اپ گریڈ منصوبے کھٹائی میں پڑنے کا امکان

رواں مالی سال میں پنشن کی مد میں 1 ہزار 55 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ گزشتہ مالی سال 1 ہزار 14 ارب روپے رکھے گئے تھے جس میں ایک سال کے دوران تقریباً 41 ارب روپے کا اضافہ ہوا ۔ وزارت خزانہ کے مطابق ڈائریکٹ کنٹری بیوشن سکیم سے آئندہ سالوں میں پنشن بل میں کمی واقع ہوگی ۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے گزشتہ پریس بریفنگ کے دوران بتایا تھا کہ آئی ایم ایف سے حالیہ اقتصادی جائزہ مذاکرات میں یہ تمام پیشرفت ہوئی ہیں اور قرض پروگرام پر عملدرآمد کرتے ہوئے تمام اہداف بروقت حاصل کیے جائیں گے ۔

ائع کا کہنا ہے کہ وفاق اور صوبوں میں سپیشل پے سکیل پر کام کرنے والے ڈائریکٹرز، لیگل ایڈوائزرز، پراجیکٹ ڈائریکٹرز اور سپیشل ایکسپرٹس بھی اب اس عمل کے پابند ہوں گے، اس نئی پالیسی کے تحت یہ افسران بھی سرکاری افسران کی طرح اپنی جائیداد، بینک اکاؤنٹس، گاڑیوں اور دیگر مالی تفصیلات ظاہر کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم سے ایم کیوایم وفد کی ملاقات،27 ویں ترمیم میں بلدیاتی حکومتوں کیلئے اختیارات مانگ لیے

حکومتی حلقوں کے مطابق اس فیصلے کا مقصد نظام میں شفافیت لانا اور اہلیت کی بنیاد پر کام کرنے والے ملازمین کی مالی حیثیت کو واضح کرنا ہے، اس حوالے سے اثاثہ جات جمع کرانے کے لیے باضابطہ میکنزم بھی تیار کیا جا رہا ہے تاکہ تمام ریکارڈ کو منظم انداز میں محفوظ کیا جا سکے۔

محکموں کو ہدایت دی جائے گی کہ وہ اثاثہ جات ڈکلیریشن کی نگرانی اور عملدرآمد کو یقینی بنائیں جبکہ پالیسی پر عمل نہ کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کا طریقہ بھی واضح کیا جا رہا ہے۔

editor

Related Articles