آٹے کی قیمت میں ’ہوشربا‘ اضافہ

آٹے کی قیمت میں ’ہوشربا‘ اضافہ

بلوچستان کے سرحدی ضلع چمن میں آٹے کی قیمتوں میں ایک ہفتے کے دوران غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق صرف 7 دن کے دوران آٹے کی 100 کلو بوری کی قیمت میں 2500 روپے تک اضافہ ہو چکا ہے۔

مارکیٹ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ پنجاب سے آٹے کی ترسیل بند ہونے کے باعث چمن کی مارکیٹ میں آٹے کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے منافع خوروں نے قیمتوں میں من مانا اضافہ کر دیا ہے۔ آٹے کی قلت اور قیمتوں میں اضافے سے عوام کی پریشانی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:جماعت اسلامی کا عید کے بعد بدامنی، بجلی بلوں، چینی و آٹا مافیا کیخلاف تحریک چلانے کا اعلان

میڈیا رپورٹ کے مطابق ایک ہفتہ قبل 50 کلو آٹے کی بوری جو تقریباً 5000 روپے میں فروخت ہو رہی تھی، اب اس کی قیمت بڑھ کر 6200 سے 6300 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اس طرح صرف چند دنوں میں 50 کلو بوری کی قیمت میں 1000 سے 1200 روپے کا اضافہ ہو چکا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ سرحدی ضلع ہونے کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نظر نہیں آ رہے۔ عوام نے الزام عائد کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ ریٹ کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دے رہی ہے۔

مزید پڑھیں:کراچی میں آٹے کے سرکاری نرخ مقرر کر دیے گئے

متاثرہ شہریوں نے کہا ہے کہ غریب اور متوسط طبقہ اب آٹا خریدنے سے قاصر ہو چکا ہے، جبکہ روزمرہ کی بنیادی ضرورت مہنگی ہونے سے گھریلو بجٹ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ عوام نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر آٹے کی ترسیل بحال کی جائے اور سرکاری نرخ نامے پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ مزید مہنگائی کو روکا جا سکے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *