عالمی مارکیٹ میں قیمتی دھاتوں کی قیمتوں نے نئی تاریخ رقم کر دی، جہاں سونے کی فی اونس قیمت پہلی بار 5 ہزار ڈالر کی نفسیاتی حد عبور کر گئی۔ خبرایجنسی کے مطابق عالمی منڈی میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان آج بھی بدستور برقرار ہے، جس کے باعث سرمایہ کاروں کی جانب سے محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر سونے کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق عالمی سطح پر معاشی غیر یقینی صورتحال، افراطِ زر کے خدشات، جغرافیائی کشیدگی اور بڑی معیشتوں کی مانیٹری پالیسیوں نے سونے کی قیمتوں کو نئی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔ عالمی منڈی میں سونے کی فی اونس قیمت بڑھ کر 5 ہزار ڈالر کی حد عبور کر گئی، جو تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے۔
اسی طرح چاندی کی قیمتوں میں بھی غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، رپورٹ کے مطابق چاندی کی قیمت میں 4 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد فی اونس چاندی 108 ڈالر میں فروخت ہونے لگی۔ ماہرین کے مطابق صنعتی استعمال اور سرمایہ کاری کی بڑھتی ہوئی طلب نے چاندی کی قیمتوں کو بھی اوپر کی جانب دھکیل دیا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے کے آخری کاروباری روز بھی پاکستان میں عالمی مارکیٹ کے زیرِ اثر سونے کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا تھا۔ 24 کیرٹ فی تولہ سونے کے دام 6500 روپے اضافے کے بعد 521162 روپے کی بلند ترین سطح پر جا پہنچے تھے، جبکہ 10 گرام سونے کے بھاؤ 5583 روپے کے اضافے سے 446812 روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے تھے۔
چاندی کی مقامی قیمتوں میں بھی نمایاں تیزی ریکارڈ کی گئی، چاندی کی فی تولہ قیمت 526 روپے بڑھ کر 10801 روپے کی بلند ترین سطح پر جا پہنچی۔ عالمی منڈی میں اسی روز فی اونس سونا 65 ڈالر مہنگا ہو کر 4988 ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچا تھا، جس کے اثرات براہِ راست پاکستان کی مقامی مارکیٹ میں بھی دیکھے گئے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر موجودہ معاشی اور سیاسی حالات برقرار رہے تو سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ سکتا ہے، جبکہ سرمایہ کاروں کی نظریں آئندہ دنوں میں عالمی مالیاتی پالیسیوں اور ڈالر کی قدر پر مرکوز رہیں گی۔