مہنگائی کے بڑھتے ہوئے اثرات اب بچت بازاروں تک بھی پہنچ گئے ہیں جہاں متعدد اشیائے خورونوش سرکاری نرخ نامے کے برعکس فروخت کی جا رہی ہیں۔ عوامی سہولت کے لیے قائم کیے گئے ان بازاروں میں بھی قیمتوں کا فرق شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث بن گیا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق آلو کی سرکاری قیمت 20 روپے فی کلو مقرر ہے، تاہم بچت بازار میں یہی آلو 50 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں۔ اسی طرح پیاز 35 روپے کے بجائے 50 روپے فی کلو دستیاب ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ’بچت بازار کا مقصد ہی کم قیمت پر اشیا کی فراہمی تھا، مگر یہاں بھی عام مارکیٹ جیسے نرخ وصول کیے جا رہے ہیں‘۔
ٹماٹر کی سرکاری قیمت 60 روپے فی کلو ہے، مگر عملی طور پر 80 روپے فی کلو فروخت کیا جا رہا ہے۔ لہسن جس کی سرکاری قیمت 250 روپے فی کلو مقرر ہے، وہ مارکیٹ میں 400 روپے فی کلو تک پہنچ چکا ہے۔ ادرک کی صورتحال بھی مختلف نہیں، 270 روپے فی کلو کے بجائے 400 روپے تک وصول کیے جا رہے ہیں۔
پھلوں کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ امرود 130 روپے کے بجائے 250 روپے فی کلو فروخت ہو رہا ہے جبکہ سیب 250 روپے فی کلو تک دستیاب ہے۔ خریداروں کا کہنا ہے کہ روزمرہ استعمال کی اشیا اس قدر مہنگی ہو چکی ہیں کہ گھریلو بجٹ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
متعدد شہریوں نے شکایت کی کہ سرکاری نرخ نامہ تو آویزاں کیا جاتا ہے مگر اس پر عملدرآمد نہیں ہوتا۔ بعض خریداروں کا کہنا ہے کہ ’اگر پوچھیں تو دکاندار مختلف وجوہات بتاتے ہیں، کبھی سپلائی کم ہونے کا بہانہ تو کبھی تھوک قیمت بڑھنے کا جواز پیش کیا جاتا ہے‘۔
شہریوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ بچت بازاروں میں باقاعدہ نگرانی کا نظام قائم کیا جائے اور گرانفروشی میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ماہرین کے مطابق اگر سرکاری نرخ نامے پر مؤثر عملدرآمد نہ ہوا تو بچت بازاروں کا مقصد فوت ہو جائے گا اور عوام کو مطلوبہ ریلیف نہیں مل سکے گا۔