پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے فارن فنڈنگ کیس میں ایک بار پھر سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں 21 لاکھ ڈالر کی غیر ملکی فنڈنگ کا مکمل حساب تاحال فراہم نہیں کیا جا سکا۔
اس کیس میں عمران خان سمیت متعدد اہم شخصیات کے نام شامل ہیں جن میں عارف نقوی، طارق رحیم، طارق شفیع، حامد زمان اور دیگر افراد شامل ہیں۔یہ رقوم مختلف غیر ملکی بینک اکاؤنٹس اور کمپنیوں کے ذریعے پی ٹی آئی کو موصول ہوئیں تاہم ان رقوم کی تفصیلات ذرائع اور استعمال سے متعلق مکمل شفافیت سامنے نہیں آ سکی۔
تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ پارٹی کی جانب سے جمع کرائی گئی مالی تفصیلات میں تضادات پائے گئے اور بعض اکاؤنٹس کو مکمل طور پر ظاہر نہیں کیا گیا
نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق بینکنگ کورٹ اسلام آباد میں بانی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے خلاف زیرِ سماعت غیر ملکی فنڈنگ کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ عدالت نے کیس میں تفتیشی عمل کی سست روی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو چالان مکمل کرنے کے لیے دو دن کی حتمی مہلت دے دی ہے۔
کیس کی سماعت بینکنگ کورٹ کے جج عبدالغفور کاکڑ نے کی جب کہ سماعت کے دوران فارن فنڈنگ کیس کے اسپیشل پراسکیوٹر واثق ملک عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران عدالت نے ایف آئی اے کی جانب سے تاحال چالان جمع نہ کرانے پر سخت سوالات اٹھائے اور تفتیشی ادارے کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کیا۔
دورانِ سماعت جج عبدالغفور کاکڑ نے استفسار کیا کہ آخر تفتیشی ادارہ اب تک کیا کر رہا ہے اور اتنے طویل عرصے کے باوجود چالان کیوں مکمل نہیں ہو سکا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ معاملہ 2022 سے زیرِ التوا ہے، مگر اس کے باوجود پیش رفت نہ ہونے کے برابر ہے جج کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ متعلقہ ادارے نے اس کیس میں سنجیدگی کا مظاہرہ ہی نہیں کیا۔
اس پر اسپیشل پراسکیوٹر واثق ملک نے عدالت کو آگاہ کیا کہ فارن فنڈنگ کیس میں بعض پہلوؤں کی تحقیقات کے لیے متعلقہ غیر ملکی حکام سے رائے لینے کی ضرورت تھی، جس کے لیے خطوط ارسال کیے گئے ہیں۔ تاہم عدالت اس وضاحت سے مطمئن نظر نہ آئی اور واضح الفاظ میں کہا کہ اتنے عرصے میں خطوط لکھنے کے علاوہ مزید عملی اقدامات بھی ہونے چاہیے تھے۔