حکومت نے جعلسازی کے خاتمے اور سرکاری امور میں شفافیت کو فروغ دینے کے لیے روایتی اسٹامپ پیپرز کو مکمل طور پر ختم کر کے ان کی جگہ جدید اور محفوظ ای سٹیمپنگ نظام متعارف کروا دیا ہے۔
اس نئے نظام کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ شہری سیٹیزن پورٹل کے ذریعے کسی بھی اسٹامپ پیپر کی تصدیق کر سکتے ہیں، جس سے یہ معلوم ہو سکے گا کہ اسٹامپ اصلی ہے یا جعلی۔
اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ فیڈرل ٹریژری نے روایتی اسٹامپ پیپرز کا اجرا بند کر دیا ہے اور اب مستقبل میں نئے اسٹامپ پیپرز جاری نہیں کیے جائیں گے، تاہم پہلے سے جاری شدہ اسٹامپ پیپرز اپنی مقررہ مدت ختم ہونے تک استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ اسٹامپ پیپرز کے تمام اعداد و شمار کا ڈیجیٹل ریکارڈ تیار کیا جا رہا ہے اور اب تک 585 چالان جنریٹ کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس اقدام سے نہ صرف اسٹامپ پیپر کے شعبے میں جدیدیت آئے گی بلکہ شہریوں اور سرکاری اداروں دونوں کے لیے امور انجام دینا آسان اور محفوظ ہو جائے گا۔
قبل ازیں، روایتی اسٹامپ پیپر کے نظام میں فراڈ کے واقعات عام تھے اور ہر سال ہزاروں شہری جعلی یا نقل شدہ اسٹامپ پیپرز کے شکار ہوتے تھے۔ جعلی رجسٹریز اور نقل شدہ اسٹامپ پیپرز کی وجہ سے نہ صرف شہریوں کو مالی نقصان اٹھانا پڑتا بلکہ سرکاری ریکارڈ میں بھی گڑبڑ پیدا ہوتی تھی۔ اس پس منظر میں ای سٹیمپنگ نظام متعارف کروانا شہریوں کے تحفظ اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم اقدام سمجھا جا رہا ہے۔