’نیپال پریمیئر لیگ میں بڑا اسکینڈل بے نقاب، بھارتی گروہ ملوث نکلا

’نیپال پریمیئر لیگ میں بڑا اسکینڈل بے نقاب، بھارتی گروہ ملوث نکلا

نیپال پریمیئر لیگ کے دوران آن لائن ’سٹے بازی‘  کے ایک بڑے بین الاقوامی اسکینڈل کا پردہ فاش ہوگیا ہے، جہاں نیپالی پولیس نے متعدد خفیہ اور اچانک کارروائیوں کے دوران 9 بھارتی شہریوں اور ایک نیپالی کو حراست میں لے لیا۔ یہ گرفتاریاں لیگ کے میچز کے دوران سٹے بازی کے بڑھتے ہوئے شبہات کے بعد کی گئیں۔

بھارتی گروہ کا انکشاف، عمر 19 سے 35 سال تک

پولیس کے مطابق گرفتار کیے گئے 9 بھارتی شہری بھارتی ریاست آندھرا پردیش سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کی عمریں 19 سے 35 سال کے درمیان ہیں۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ گروہ منظم انداز میں لیگ میچز کے دوران آن لائن سٹے بازی کا نیٹ ورک چلا رہا تھا، جس کا دائرہ کار نیپال سے باہر بھی پھیلنے کا امکان ہے۔

کٹھمنڈو کے کرائے کے مکان پر چھاپہ، موبائل فون اور ڈیجیٹل ریکارڈ برآمد‘

سمکھوسی، کٹھمنڈو میں ایک کرائے کے گھر پر پولیس نے رات گئے اچانک چھاپہ مارا، جہاں سے 8 افراد کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا۔ موقع سے 15 موبائل فون، لیپ ٹاپس، ڈیجیٹل ریکارڈز، سٹے بازی کے اعداد و شمار اور دیگر شواہد قبضے میں لیے گئے، جو اس نیٹ ورک کی وسعت کو ظاہر کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:وسیم اکرم پر بڑا الزام عائد: آن لائن ایپ کی تشہیر کرکے مشکل میں پھنس گئے

ایک دن پہلے کی گئی کارروائی میں ایک بھارتی اور ایک نیپالی شہری کو بھی گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد مجموعی گرفتاریاں 10 ہوگئیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مزید چھاپے بھی ممکن ہیں کیونکہ واقعے میں مزید لوگوں کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آ رہے ہیں۔

سٹے بازی کا حجم لاکھوں میں، اصل مالیات کروڑوں تک پہنچنے کا شبہ

پولیس ترجمان ایس پی کاجی کمار آچاریا نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ گروہ تقریباً 5 لاکھ نیپالی روپے کے حجم سے غیر قانونی بیٹنگ کر رہا تھا۔ تاہم دیگر ڈیجیٹل شواہد سے پتا چلتا ہے کہ اس نیٹ ورک کا اصل مالی حجم تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ روپے (تقریباً 1.75 لاکھ امریکی ڈالر) تک ہو سکتا ہے۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ گروہ کرپٹو کرنسی کے ذریعے غیر قانونی لین دین کر رہا تھا، جس سے کیس کی نوعیت مزید پیچیدہ ہو گئی ہے، کیونکہ کرپٹو ٹرانزیکشنز کی ٹریکنگ نہایت مشکل ہوتی ہے۔

لیگ انتظامیہ اور پولیس کا مشترکہ ردعمل

لیگ انتظامیہ نے سٹے بازی سکینڈل پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نیپالی پولیس سے رابطہ کیا ہے اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ لیگ کی ساکھ کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کرے گی۔

مزید پڑھیں:بھارتی کھلاڑیوں کا کولکتہ ٹیسٹ میں جنوبی افریقہ کے کپتان کے ساتھ افسوسناک رویہ

پولیس نے یہ امکان بھی ظاہر کیا ہے کہ گرفتار افراد کے روابط بھارت میں موجود بڑے سٹے بازی نیٹ ورکس سے ہوسکتے ہیں، جس کی جانچ جاری ہے۔ مزید ڈیجیٹل آلات فرانزک معائنہ کے لیے بھیجے جا رہے ہیں۔

مزید گرفتاریوں کا امکان

تحقیقات کرنے والی ٹیموں کا کہنا ہے کہ ابھی بہت سا ڈیٹا خفیہ ایپس، واٹس ایپ گروپس اور کرپٹو والٹس سے برآمد ہونا باقی ہے۔ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ گروہ نیپال پریمیئر لیگ کے علاوہ دیگر بین الاقوامی لیگوں پر بھی بیٹنگ کرتا رہا ہے۔

پولیس کے مطابق، کیس حساس نوعیت کا ہے اور آئی ٹی ایکسپرٹس، سائبر کرائم یونٹ اور انٹرپول کے درمیان بھی رابطہ ممکن ہے۔ مزید پیش رفت آئندہ 48 گھنٹوں میں سامنے آنے کی توقع ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *