دخترِ مشرق، سابق وزیراعظم شہید بینظیر بھٹو کی 18 ویں برسی آج منائی جارہی ہے

دخترِ مشرق، سابق وزیراعظم شہید بینظیر بھٹو کی 18 ویں برسی آج منائی جارہی ہے

عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم ، دختر مشرق ، بے نظیربھٹو شہید کی 18 ویں برسی آج منائی جارہی ہے ۔

سابق وزیراعظم شہید بے نظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر ملک کے مختلف حصوں سے جیالے لاڑکانہ پہنچ گئے اور  مزار پر فاتحہ خوانی کا سلسلہ جاری ہے۔

سندھ بھرمیں آج عام تعطیل ہے جبکہ گڑھی خدا بخش میں سخت سکیورٹی انتظامات کے گئے ہیں اور 10 ہزار پولیس اہلکار تعینات ہیں۔

 خاتون اول آصفہ بھٹو نے گڑھی خدابخش میں شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو کے مزاروں پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی ، وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار و دیگر رہنما بھی گڑھی خدا بخش پہنچ گئے، شہدا کے مزاروں پر حاضری دی، جیالوں نے بے نظیر بھٹو کو خراج عقیدت پیش کیا۔

میئر سکھر کی قیادت میں پیدل قافلہ گڑھی خدا بخش کیلئے روانہ ہوا، چیئرمین بلاول بھٹو اور صدر مملکت آصف زرداری گڑھی خدا بخش میں جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔

لیاقت باغ راولپنڈی میں بے نظیر بھٹو کی جائے شہادت پر جیالوں کی آمد بھی جاری رہی، فاتحہ خوانی کی۔

صدر آصف علی زرداری کا شہید بینظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر پیغام

صدر مملکت آصف زرداری نے بے نظیر بھٹو کی 18 ویں برسی پر پیغام میں کہاہے کہ نفرت کے بجائے اتحاد کا راستہ اپنائیں، انتقامی سیاست کی بجائے جمہوریت کو اصل بدلہ سمجھیں، بے نظیر فرقہ واریت، نفرت اور عدم برداشت کے خلاف تھیں۔

آصف علی زرداری نے مزید کہا کہ اقلیتوں کے حقوق کیلئے آواز اٹھاتے رہیں، بے نظیر بھٹو نے اپنے نظریات کی قیمت جان کی صورت میں ادا کی۔

بے نظیر بھٹو کی زندگی پر ایک نظر

بے نظیر بھٹو جنہیں سیاسی مبصرین پاکستان میں سخت ترین چیلنجز کا سامنا کرنے والی رہنما قراردیتے ہیں، ان کا شمار جنوبی ایشیا کی اُن سیاسی شخصیات میں شامل  ہوتا ہے جن کی پذیرائی بین الاقوامی سطح پر ہوئی۔

بینظیر بھٹو 21 جون 1953 کو کراچی میں پیدا ہوئیں، انہوں نے کانوینٹ آف جیززایند میری کراچی گرامر اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی جبکہ ہارورڈ اور آکسفورڈ وہ درسگاہیں ہیں، جہاں سے بی بی نے پولیٹیکل سائنس اور بین الاقوامی قوانین میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔

مبصرین کے مطابق پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے دونوں بیٹوں کے بجائے بینظیر بھٹو کو اپنا سیاسی جانشین قراردیا تھا، پھر وقت نے اس فیصلے کو درست ثابت کیا۔

جنرل ضیاء الحق نے ملک میں مارشل لاء لگایا تو بینظیر بھٹو بیرون ملک رہ کر جمہوریت کیلئے جدوجہد کرتی رہیں، اپریل 1986 میں پاکستان واپس آئیں تو عوام نے بے مثال استقبال کیا۔

1988 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کی کامیابی کے بعد بینظیر بھٹو مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم منتخب ہوئیں، تاہم 18ماہ بعد ان کی حکومت ختم کردی گئی۔

نومبر 1993میں بینظیر بھٹو ملک کی دوسری بار وزیراعظم منتخب ہوئیں، لیکن 1996میں پیپلز پارٹی کے ہی نامزد صدر نے حکومت کا خاتمہ کردیا۔

مبینہ انتقامی کارروائیوں کے بعد بینظیر بھٹو نے جلا وطنی اختیار کی، پھر 2007 میں انہوں نے پاکستان واپسی کا اعلان کیا اور جان کا خطرہ ہونے کے باوجود 18 اکتوبر 2007 کو کراچی پہنچیں تو یہاں ان کے استقبالی جلوس میں بم دھماکے ہوئے جن میں سیکڑوں افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔

بینظیر بھٹو نے ملک کے مختلف شہروں ميں جلسے کر کے حکومت کو عوامی خواہشات کا آئينہ دکھايا، اس دوران بینظير بھٹو کو بار بار خطرات سے آگاہ کیا جاتا رہا مگر وہ خود کو عوام سے دور نہ رکھ سکیں۔

 27 دسمبر 2007  کو راولپنڈی کے لياقت باغ میں جلسے سے واپسی پر ان پر جان ليوا حملہ کيا گیا اور یوں عوام کی یہ محبوب ليڈر المناک انداز میں دنیا سے رخصت ہوگئی۔

بینظیر بھٹو کو لاڑکانہ کے گڑھی خدا بخش میں والد ذوالفقار علی بھٹو اور بھائیوں مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو کے پہلو میں سپردخاک کیا گیا۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *