حکومت اور اپوزیشن کے غیر رسمی رابطے بے نتیجہ، پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات بڑی رکاوٹ بن گئے

حکومت اور اپوزیشن کے غیر رسمی رابطے بے نتیجہ، پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات بڑی رکاوٹ بن گئے

حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی پارلیمانی قیادت کے درمیان ہونے والے غیر رسمی رابطوں میں کوئی پیش رفت نہ ہو سکی، بنیادی وجہ پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات قرار دیے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اس تعطل کی بنیادی وجوہات پی ٹی آئی کے اندر گہرے اختلافات اور اپوزیشن جماعت میں واضح فیصلہ سازی کے اختیارات کی کمی ہیں، جس کے باعث کسی ٹھوس معاہدے کی راہ ہموار نہ ہو سکی۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی کو انتہا پسندانہ سیاست ترک کر کے جمہوری حدود میں واپس آنا چا ہیے، بلاول بھٹو

میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت اور پی ٹی آئی کی پارلیمانی قیادت کے درمیان حالیہ دنوں میں غیر رسمی ملاقاتیں ہوئیں، جن کے دوران پی ٹی آئی رہنماؤں نے موجودہ سیاسی ماحول میں مذاکرات کے راستے میں حائل سنگین رکاوٹوں کو تسلیم کیا۔

پی ٹی آئی کی پارلیمانی قیادت نے یہ بھی مانا کہ فیصلہ سازی میں ان کا کردار محدود ہے اور ان کے پاس پارٹی کو کسی حتمی یا پابند معاہدے میں شامل کرنے کا اختیار موجود نہیں ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے حکومت کے ساتھ کسی بھی باضابطہ مکالمے سے قبل ٹھوس اعتماد سازی کے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا، تاہم حکومتی مؤقف یہ رہا کہ مذاکرات کے آغاز کے لیے کسی قسم کی پیشگی شرط قبول نہیں کی جائے گی۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ بات چیت بلاشرط ہونی چاہیے تاکہ سیاسی مسائل کا حل نکالا جا سکے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومتی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی نے وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے دی جانے والی پیشکش پر مثبت ردعمل نہ دے کر ایک اہم موقع ضائع کر دیا۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کے اندر واضح اور مربوط فیصلہ سازی کے ڈھانچے کی عدم موجودگی اس پورے عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آئی ہے۔

مزید پڑھیں:پی ٹی آئی احتجاج میں ریاست مخالف تقاریر، پاکستان کا برطانوی سرزمین کے غلط استعمال پر اظہار تشویش

رپورٹس کے مطابق موجودہ پی ٹی آئی قیادت میں سے کسی کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ پارٹی کی جانب سے حتمی اور پابند فیصلے کر سکے۔ کچھ پی ٹی آئی رہنما مبینہ طور پر اندرونی اور سوشل میڈیا تنقید کے خوف سے مذاکراتی عمل کا حصہ بننے سے گریزاں ہیں، خاص طور پر پارٹی بانی کے حامی حلقوں کی جانب سے ممکنہ ردعمل کے باعث۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے اندر مذاکرات کے طریقہ کار پر بھی واضح تقسیم موجود ہے، جہاں کچھ رہنما براہ راست حکومت سے بات چیت کے حامی ہیں، جبکہ دیگر ’تحریک تحفظ آئین پاکستان‘ کے پلیٹ فارم کے ذریعے مکالمے کو ترجیح دیتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کے اندر جاری انتشار اور اختلافات کے باعث اس وقت پی ٹی آئی کے ساتھ کسی نتیجہ خیز مکالمے کی توقع نہیں کی جا رہی۔ ان کے مطابق فی الحال کوئی عملی یا ٹھوس تجویز زیر غور نہیں ہے، اور موجودہ حالات میں مذاکرات کے امکانات انتہائی محدود دکھائی دیتے ہیں۔

Related Articles