پاکستان نے بھارت میں کرسمس کے دوران توڑ پھوڑ اور مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت میں اقلیتوں اور کمزور کمیونٹیز کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے میڈیا کے سوالات کے جواب میں کہا کہ بھارت میں اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں، پر جاری ظلم و ستم ایک نہایت تشویشناک معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرسمس کے دوران پیش آنے والے قابلِ مذمت توڑ پھوڑ کے حالیہ واقعات اور ریاستی سرپرستی میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے والی مہمات نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارت میں مسلمانوں کے گھروں کی مسماری، بار بار لنچنگ کے واقعات اور خوف و ہراس پھیلانے کی منظم کوششیں تشویش ناک حد تک بڑھ چکی ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر محمد اخلاق کے کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں ریاستی اداروں نے مبینہ طور پر مجرموں کو جوابدہی سے بچانے کے لیے کردار ادا کیا، جو انصاف اور قانون کی بالادستی پر سوالیہ نشان ہے۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ ایسے واقعات نے بھارتی مسلمانوں میں خوف، عدم تحفظ اور اجنبیت کے احساس کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ ان کے مطابق متاثرین کی فہرست افسوسناک حد تک طویل ہے، جو اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف تشدد ایک منظم اور مسلسل مسئلہ بن چکا ہے۔
ترجمان نے زور دیا کہ بین الاقوامی برادری کو ان پیش رفتوں کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہیے اور بھارت پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ اقلیتوں کے انسانی حقوق کا تحفظ کرے۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی آزادی، جان و مال کا تحفظ اور قانون کے تحت مساوی سلوک ہر ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، جس سے بھارت مسلسل انحراف کر رہا ہے۔
وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن، رواداری اور انسانی حقوق کے احترام کا حامی ہے اور بھارت میں اقلیتوں کے خلاف تشدد پر خاموشی عالمی اقدار اور بین الاقوامی قوانین کے منافی ہو گی۔