سینئر سیاستدان خرم روکھڑی نے دعویٰ کیا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم ایک شخص نے گزشتہ تین برسوں کے دوران “مزاحمت” کے نام پر تقریباً 40 کروڑ روپے ایک بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ( عمران خان )کو بھجوائے۔
نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ’’بول رپورٹس ود بتول راجپوت ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے خرم روکھڑی نے بتایا کہ دو روز قبل ان کی ملاقات ایک اوورسیز پاکستانی سے ہوئی جو پاکستان تحریکِ انصاف سے ہمدردی رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس شخص نے انکشاف کیا کہ ایک مخصوص ملک سے چند افراد نے مزاحمت کے نام پر بھاری رقوم پاکستان بھجوائیں، تاہم اسے یقین ہے کہ یہ رقوم درست مقاصد کے لیے استعمال نہیں ہوئیں۔
خرم روکھڑی نے کہا کہ مذکورہ شخص ایک بڑا بزنس مین ہے اور اسی بنیاد پر وہ اس کے بیان کو سنجیدہ اور قابلِ اعتماد سمجھتے ہیں۔
پروگرام میں گفتگو کے دوران خرم روکھڑی نے موجودہ سیاسی صورتحال کی ذمہ داری براہِ راست عمران خان پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ذاتی پالیسیوں اور فیصلوں نے ایک منظم اور بڑی سیاسی جماعت کو شدید نقصان پہنچایا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی میں موجود پرانے، نظریاتی اور تجربہ کار سیاستدانوں کو مسلسل نظرانداز کیا گیا جبکہ ذاتی مفادات رکھنے والے افراد کو آگے بڑھایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ محمود مولوی اور دیگر سنجیدہ سیاستدان پارٹی کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیںتاہم ان کی سنجیدگی کو نہ تو سراہا جا رہا ہے اور نہ ہی اس کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
خرم روکھڑی نے کہا کہ جو لوگ اصلاح کی نیت سے سامنے آتے ہیں، انہیں دیوار سے لگایا جاتا ہے، جبکہ پارٹی کو نقصان پہنچانے والے عناصر کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔
خرم روکھڑی نے مزید الزام عائد کیا کہ مزاحمت کے نام پر ایک باقاعدہ کاروبار کھڑا کر لیا گیا ہے، جس کے ذریعے بعض افراد نے اسلام آباد کے پوش علاقوں اور بیرونِ ملک جائیدادیں خریدیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جب تک قیادت کا یہی رویہ برقرار رہے گا، یہ مفادات وابستہ “دکانیں” چلتی رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ اس تمام صورتحال کا حتمی ذمہ دار خود عمران خان ہیں، کیونکہ وہ تنقید سننے اور مخلصانہ مشورہ قبول کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتے۔