’تاریخ کا بدلہ لینا ہوگا ‘ اجیت ڈوول کے بیان پربھارت میں ہلچل، اپوزیشن اور سول سوسائٹی کی سخت تنقید

’تاریخ کا بدلہ لینا ہوگا ‘ اجیت ڈوول کے بیان پربھارت میں ہلچل، اپوزیشن اور سول سوسائٹی کی سخت تنقید

بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول کے ایک حالیہ بیان، جس میں انہوں نے “تاریخ کا بدلہ لینے” کی بات کی، نے ملک بھر میں سیاسی اور سماجی سطح پر شدید ردعمل کو جنم دیتے ہوئے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

برطانوی میڈیا رپورٹ کیمطابق اجیت ڈوول نے نوجوانوں سے متعلق ایک تقریب میں کہا ہے کہ ’تاریخ ہمیں چیلنج کرتی ہے، ہر نوجوان کے اندر وہ آگ ہونی چاہیے ،  ’بدلہ‘ لفظ اچھا لفظ نہیں ہے، لیکن بدلہ خود ایک طاقت ہے ، ہمیں اپنی تاریخ کا بدلہ لینا ہے۔‘

 بھارتی قومی سلامتی کے مشیر نے یہ بھی کہا کہ انڈیا ہمیشہ اتنا آزاد نہیں تھا جیسا کہ آپ کو نظر آتا ہے، ہمیں اس ملک کو ایک ایسی جگہ پر واپس لانا ہے جہاں ہم اپنے حقوق، اپنے نظریات اور اپنے عقائد کی بنیاد پر ایک عظیم انڈیا بنا سکتے ہیں۔‘

اپوزیشن اور سول سوسائٹی کی تنقید

 اس بیان کے بعد بھارت میں شدید ردعمل دیکھنے میں آرہا ہے جہاں اپوزیشن رہنماؤں، صحافیوں اور دانشوروں نے اسے اشتعال انگیز، خطرناک اور اقلیتوں کے خلاف نفرت کو ہوا دینے والا قرار دیا ہے ، جبکہ بی جے پی اور بعض حکومتی حامیوں نے اسے سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ڈوول کا دفاع کیا۔

 ناقدین کے مطابق اس طرح کی سوچ نہ صرف ماضی کے زخموں کو کریدتی ہے بلکہ موجودہ دور میں تقسیم اور عدم استحکام کو بڑھا سکتی ہے۔

اجیت ڈوول کے اس بیان پر اپوزیشن اور سول سوسائٹی سخت نالاں نظر آتی ہے ،  محبوبہ مفتی اور دیگر ناقدین نے بیان کو اشتعال انگیز اور اقلیتوں کے خلاف نفرت آمیز قرار دیا۔

محبوبہ مفتی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ ڈوول جیسے اعلیٰ عہدے پر فائز افسر، جس کا فرض ملک کو اندرونی اور بیرونی مذموم عزائم سے بچانا ہے، اس نے نفرت کے فرقہ وارانہ نظریے میں ملوث ہو کر مسلمانوں کے خلاف تشدد کو معمول بنا لیا ہے۔‘

مزید پڑھیں:سڈنی حملہ آور بھارتی شہری ثابت ہونے کے باوجود مودی سرکار کی فیک نیوز فیکٹریاں حملہ آور کو پاکستانی شہری قرار دینے کے لیے سرگرم

کانگریس اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے بھی اس بیان کو خطرناک اور اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے مشیر کا کام نوجوانوں کو جذباتی نعروں پر اکسانا نہیں بلکہ ملک کی حفاظت اور انٹیلی جنس ناکامیوں کا جواب دینا ہے۔

 کانگریس ترجمان ڈاکٹر شمع محمد نے پلوامہ اور دیگر حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے اجیت ڈوول سے جواب اور استعفے کا مطالبہ بھی کیا۔

اسی طرح سینئر صحافیوں اور دانشوروں نے سوال اٹھایا کہ اگر “تاریخ کا بدلہ” لینا ہے تو پھر یہ واضح ہونا چاہیے کہ کس سے اور کیسے، جبکہ بعض نے اس بیان کو مبہم اور گمراہ کن قرار دیا۔

کچھ ناقدین نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کے بیانات معاشرے میں تقسیم اور اقلیتوں کے خلاف نفرت کو بڑھا سکتے ہیں۔

بی جے پی اور اجیت ڈوول کے حمایتیوں کا مؤقف

بی جے پی اور حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بیان کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور پوری تقریر سننی چاہیے تاہم مجموعی طور پر یہ بیان بھارت میں ایک نئی سیاسی اور سماجی بحث  کا سبب بن گیا ہے اور سیاسی و سماجی حلقوں نے اسے تشویشناک قرار دیا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *