قومی سلامتی پر یکسوئی اور متفقہ بیانیہ وقت کی ضرورت ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

قومی سلامتی پر یکسوئی اور متفقہ بیانیہ وقت کی ضرورت ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

ڈائریکٹر جنرل انٹرسروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ قومی سلامتی کے معاملات میں یکسوئی اور متفقہ قومی بیانیہ وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔ 

آئی ایس پی آر کے مطابق راولپنڈی میں جنرل ہیڈکوارٹر میں نیشنل پیس اینڈ کوآرڈینیشن کمیٹی (این پی اے سی )کے وفد کی ڈی جی آئی ایس پی آر سے ملاقات کے دوران داخلی سلامتی کی مجموعی صورتحال پر جامع گفتگو کی گئی، جس میں فتنہ الخوارج، تحریک طالبان پاکستان اور ٹی ٹی اے کے تناظر میں درپیش چیلنجز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر اس بات پر زور دیا گیا کہ دہشت گردی کی کسی بھی شکل کا کوئی جواز نہیں اور ریاست اس کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کے عزم پر قائم ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کل اہم ترین پریس کانفرنس کریں گے

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ مظلوموں کی حمایت پاکستان کی اخلاقی اور اصولی ذمہ داری ہے، جبکہ کشمیر اور غزہ کے معاملات پر پاکستان کے اصولی مؤقف کی بھی توثیق کی گئی۔ شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان مظلوم اقوام کے حقِ خودارادیت اور بنیادی انسانی حقوق کی حمایت جاری رکھے گا۔

ملاقات میں منبر و محراب سے اتحادِ امت اور سماجی ہم آہنگی کے پیغام کو ملک گیر سطح پر پھیلانے کا اعلان کیا گیا۔ شرکاء نے نفرت انگیزی، فرقہ واریت اور تکفیری بیانیے کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنانے پر اتفاق کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ معاشرے میں برداشت، رواداری اور اتحاد کو فروغ دیا جائے گا۔

ریاستی بیانیے کی مؤثر ترویج کے لیے مساجد، مدارس اور جامعات میں آگاہی نشستوں اور مکالمے کے سلسلے کو بڑھانے کی تجویز بھی دی گئی، تاکہ نوجوان نسل کو درپیش چیلنجز سے آگاہ کیا جا سکے اور انہیں مثبت قومی سوچ سے جوڑا جا سکے۔

مزید پڑھیں:پاکستان میں دہشتگردوں کی دراندازی میں طالبان حکومت بڑی سہولت کار ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

این پی اے سی کے نمائندوں نے فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کی کھل کر مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ دہشت گردی کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔ ملاقات کے اختتام پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ قومی اتحاد، متفقہ بیانیہ اور ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون ہی پاکستان کو درپیش سلامتی چیلنجز کا مؤثر حل ہے۔

Related Articles