صوبائی وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے الزام عائد کیا ہے کہ سہیل آفریدی کی جانب سے کراچی میں 9 مئی جیسا واقعہ کرنے کی خطرناک کوشش کی گئی، تاہم سندھ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت حکمتِ عملی کے تحت صورتحال کو قابو میں رکھا۔
منگل کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ ہم نے خیبر پختونخوا حکومت کو پہلے ہی ممکنہ خطرات سے آگاہ کر دیا تھا اور مہمانوں کے لیے ایک محفوظ راستہ بھی فراہم کیا گیا تھا، مگر جب پی ٹی آئی قیادت ٹریفک میں پھنس گئی تو انہوں نے انتظامیہ پر بے بنیاد الزامات لگانا شروع کر دیے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ پی ٹی آئی کو باغ جناح میں جلسے کی باقاعدہ اجازت دی گئی تھی، تاہم وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے ٹریفک قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی گئی اور جھوٹ بولا گیا کہ باغ جناح کو تالے لگے ہوئے ہیں، ان کے مطابق اجازت ملنے کے صرف 5 منٹ بعد ہی یہ کہا جانے لگا کہ ہم سڑک پر جلسہ کریں گے، جو طے شدہ معاہدے اور قانون کی صریح خلاف ورزی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ اس دوران ٹی وی چینلز کی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا، صحافیوں کو دھمکیاں دی گئیں اور پولیس اہلکاروں کو زدوکوب کیا گیا، جس کے نتیجے میں کئی اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ یہ تمام واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ پی ٹی آئی قومی دھارے میں رہ کر سیاست کرنے کے موڈ میں نہیں اور مسلسل نفرت کی زبان استعمال کر رہی ہے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ سعید غنی نے سہیل آفریدی کو ایئرپورٹ پر ویلکم کیا اور سندھ حکومت نے انتہائی تحمل اور برداشت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر حکومت چاہتی تو گرفتاریاں اور سخت اقدامات بھی کر سکتی تھی، لیکن صورتحال کو بگاڑنے کے بجائے صبر و تحمل کا راستہ اختیار کیا گیا۔
شرجیل میمن کے مطابق اگر سہیل آفریدی کے ذہن میں کوئی شرارت تھی تو اس نے کچھ اور ہی کرنا تھا، تاہم سندھ حکومت نے انہیں مہمان سمجھ کر عزت اور تحفظ فراہم کیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی یہ حرکات دراصل ان کے لیڈر کے ذہن کی عکاسی کرتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انتشار اور بدامنی کو ہوا دی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے سندھ حکومت کے ساتھ کی گئی کمٹمنٹ کی خلاف ورزی کی۔ شرجیل میمن نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ 8 فروری کو کاروبار اور ٹرانسپورٹ بند کرنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی اور وفاقی حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی رٹ برقرار رکھے اور قانون کی عملداری کو یقینی بنائے۔