معروف تجزیہ کار رضوان راضی نے عمران خان، ان کے بیٹوں اور پاکستان تحریک انصاف کی مجموعی سیاست سے متعلق تہلکہ خیزانکشافات کیے ہیں۔
’آزاد سیاست‘ کے ساتھ خصوصی پوڈ کاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے رضوان رضی کا کہنا ہے کہ عمران خان کے بیٹے برطانوی معاشرے کے لیے تو بہتر شہری ہو سکتے ہیں کیونکہ وہ وہاں کی روایات اور طرزِ زندگی سے ہم آہنگ ہیں، لیکن پاکستانی معاشرے کے لیے وہ کسی طور کارآمد نظر نہیں آتے۔
رضوان راضی نے دعویٰ کیا کہ اگر عمران خان کے بیٹوں کے معمولاتِ زندگی کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو کئی سوالات جنم لیتے ہیں، انہوں نے چیچن صدر کی جانب سے دیا گیا مبینہ سونے کا پستول بطور مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ پستول ایک کالے ’اوچکے‘ سے برطانوی پولیس نے برآمد کیا۔
لندن میں اس شخص نے پولیس کو واضح طور پر بتایا کہ یہ پستول اسے عمران خان کے بیٹے نے دیا تھا، جس سے اس کی گہری دوستی تھی، ان کے مطابق اس پستول کی تصاویر بھی موجود ہیں لیکن اس کا کوئی ریکارڈ پاکستانی توشہ خانہ میں نہیں ملتا۔
تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ اس وقت دبایا گیا جب پاکستان میں عمران خان کی حکومت تھی، رضوان راضی کے مطابق اگر پہلا توشہ خانہ کیس درست طریقے سے بنایا جاتا تو دوسرے توشہ خانہ کیس کی ضرورت ہی پیش نہ آتی، ان کا کہنا تھا کہ چیچن صدر کی جانب سے دیا گیا یہ پستول قانونی طور پر پاکستانی توشہ خانہ میں ہونا چاہیے تھا۔
رضوان راضی نے پی ٹی آئی کی بیرونِ ملک سرگرمیوں پر بھی سخت تنقید کی، ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے بیٹے نہ تو پاکستان آتے ہیں اور نہ ہی لندن میں کسی مظاہرے، جلسے یا احتجاج میں شریک ہوتے ہیں، انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ پی ٹی آئی لندن کو اب لندن میں بھارتی سفارت خانے سے رابطہ کرنا چاہیے کیونکہ اب ان کے مظاہروں میں وہاں سے لوگ بھی نہیں آ رہے، ان کے بقول لندن میں احتجاجی سیاست تقریباً ختم ہو چکی ہے۔
انہوں نے بھارت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مظاہروں میں افراد لانے کا کنٹریکٹ جس پارٹی کے پاس پاکستان میں تھا، وہی کنٹریکٹ لندن میں بھی اسی پارٹی کے پاس رہا، بطور ثبوت انہوں نے کہا کہ کرک میں پی ٹی آئی کے ایک مظاہرے کے دوران کچھ افراد امریکا کا جھنڈا لے کر آ گئے تھے، جو پوری صورتحال پر سوالیہ نشان ہے۔
رضوان رضی نے پی ٹی آئی کے عوامی دعوؤں کو بھی آڑے ہاتھوں لیا، ان کا کہنا تھا کہ پارٹی یہ دعویٰ کرتی ہے کہ ’90 فیصد عوام ہمارے ساتھ ہیں‘، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ ان کے جلسوں میں 90 لوگ بھی پورے نہیں ہوتے، انہوں نے پیش گوئی کرتے ہوئے کہا کہ 31 دسمبر 2026 تک عمران خان کے جیل سے باہر آنے کے امکانات نظر نہیں آتے۔
سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے رضوان راضی نے کہا کہ وہ ماضی میں عمران خان کے ہاتھوں بلیک میل ہوتے رہے، تاہم اب عمران خان کی دھمکیوں سے کوئی بھی مرعوب یا بلیک میل نہیں ہو رہا۔
گفتگو کے اختتام پر رضوان رضی نے کہا کہ پی ٹی آئی نے سیاسی ورکر کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے، ان کے مطابق ماضی میں سیاسی کارکن کی گلی محلوں میں عزت ہوا کرتی تھی، لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ لوگ طنزیہ انداز میں کہتے ہیں ’یہ تو یوتھیا ہے‘، جو پاکستانی سیاست کے زوال کی عکاسی کرتا ہے۔