’نیب‘ کا بڑا اقدام: بینکرز سٹی ہاؤسنگ اسکیم اسکینڈل کے متاثرین میں 341 ملین روپے تقسیم

’نیب‘ کا بڑا اقدام: بینکرز سٹی ہاؤسنگ اسکیم اسکینڈل کے متاثرین میں 341 ملین روپے تقسیم

قومی احتساب بیورو (نیب) نے بینکرز سٹی ہاؤسنگ اسکیم اسکینڈل کے 476 متاثرین میں 341 ملین روپے تقسیم کیے، جو طویل عرصے سے جاری مالی فراڈ کے متاثرین کو ریلیف فراہم کرنے کی جانب ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ رقم ایک تقریب کے دوران تقسیم کی گئی جس کی صدارت چیئرمین نیب ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد نے کی۔ نیب کے مطابق 120 ملین روپے 316 متاثرین کو پے آرڈرز کے ذریعے دیے گئے جبکہ 221 ملین روپے 160 درخواست گزاروں کو آن لائن منتقل کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:ایسا کیا تو سیدھا جیل جاؤ گے، سوشل میڈیا صارفین کے لیے اہم خبرآگئی

میڈیا رپورٹ کے مطابق نیب حکام کا کہنا ہے کہ باقی ماندہ وصول شدہ رقم کی تصدیق کے بعد تقریباً 2 ہزار 200 دیگر متاثرین میں بھی مرحلہ وار تقسیم جاری رکھی جائے گی اور تمام مستحق متاثرین کو ادائیگی تک یہ عمل جاری رہے گا۔

واضح رہے کہ بینکرز سٹی ہاؤسنگ اسکیم اسکینڈل پہلی بار 2006 میں منظرِ عام پر آیا، جس کے بعد عوامی شکایات پر 2007 میں باضابطہ تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

یہ ہاؤسنگ سوسائٹی 2003 میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے ساتھ رجسٹرڈ تھی اور اس نے اسلام آباد، راولپنڈی اور ہری پور میں 14 ہزار کنال اراضی کی ملکیت کا دعویٰ کیا تھا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق تاہم تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ انتظامیہ نے گمراہ کن اشتہارات اور غیر مصدقہ دستاویزات کے ذریعے سینکڑوں شہریوں سے رقوم وصول کیں، حالانکہ نہ تو زمین متعلقہ اداروں سے منظور شدہ تھی اور نہ ہی یکجا کی گئی تھی، جبکہ وعدہ کردہ پلاٹس بھی کبھی فراہم نہیں کیے گئے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق سخت اور مسلسل تحقیقات اور طویل عدالتی کارروائی کے نتیجے میں نیب نے اب تک ملزمان سے مجموعی طور پر 1 ارب 209 ملین روپے برآمد کیے ہیں، جبکہ مزید رقوم کی وصولی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ نیب کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں اسے ایک غیر معمولی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ متاثرین کو ان کی اصل سرمایہ کاری سے ڈھائی گنا زائد رقم واپس کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں:عمران خان سے متعلق اہم کیس کی سماعت ملتوی

چیئرمین نیب نے ڈی جی نیب اسلام آباد، راولپنڈی وقار احمد چوہان کی قیادت میں تحقیقاتی ٹیم کی کاؤشوں کو سراہا اور کیس کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے پر استغاثہ کے کردار کی بھی تعریف کی۔

انہوں نے عوامی مفاد میں ملزمان کی اپیل مسترد کرنے اور کیس ٹرائل کورٹ کو واپس بھیجنے پر لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کا بھی شکریہ ادا کیا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین نذیر احمد نے کہا کہ انہیں ذاتی طور پر اس بات پر اطمینان ہے کہ ایک ایسے کیس میں انصاف ہوتا دیکھ رہے ہیں جسے بہت سے لوگ ناقابلِ حل سمجھتے تھے۔ انہوں نے کامیابی کو نیب راولپنڈی ٹیم اور قانونی استغاثہ کے باہمی تعاون کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ نیب عوام دوست ادارہ ہے اور شہریوں کی زندگی بھر کی جمع پونجی کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ بیورو معصوم شہریوں کو دھوکہ دینے والوں کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا اور عوام پر زور دیا کہ کسی بھی ہاؤسنگ اسکیم میں سرمایہ کاری سے قبل اس کی قانونی حیثیت کی تصدیق ضرور کریں۔

اس موقع پر ڈی جی نیب اسلام آباد، راولپنڈی وقار احمد چوہان نے کہا کہ تحقیقاتی ٹیم کو چھپائے گئے اثاثوں اور منجمد بینک اکاؤنٹس تک رسائی میں کئی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ شفافیت اور شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے نیب نے اعلان کیا کہ جائز متاثرین کی نئی درخواستیں بھی تصدیقی عمل کے تحت قبول کی جا رہی ہیں۔

تقریب میں شریک متاثرین نے نیب کی کوششوں کو سراہا۔ ایک بیوہ شخص نے کہا کہ ملنے والی رقم نے ریاستی اداروں پر اس کا اعتماد بحال کر دیا ہے، جبکہ ایک چینی شہری متاثرہ سرمایہ کار نے نیب کے منصفانہ رویے اور تحقیقاتی ٹیم کی پیشہ ورانہ مہارت کی تعریف کی۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *