عدالت کا گلی محلوں میں اشیاء فروخت کرنیوالوں کیخلاف بڑا حکم جاری

عدالت کا گلی محلوں میں اشیاء فروخت کرنیوالوں کیخلاف بڑا حکم جاری

راولپنڈی کی ایک مقامی عدالت نے شہریوں کو درپیش شور شرابے کے مسئلے پر اہم اور فیصلہ کن قدم اٹھاتے ہوئے گلی محلوں میں سبزی، پھل اور دیگر اشیاء فروخت کرنے کے لیے لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔

عدالت نے پولیس کو ہدایت جاری کی ہے کہ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف باقاعدہ مقدمات درج کیے جائیں تاکہ قانون پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکےیہ فیصلہ راولپنڈی کی مجسٹریٹ عدالت میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے سبزیاں اور پھل فروخت کرنے والوں کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران سامنے آیا۔

درخواست سینئر وکیل انوار ڈار کی جانب سے دائر کی گئی تھی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ شہر کے مختلف علاقوں میں ہاکرز صبح سویرے سے لے کر رات گئے تک لاؤڈ اسپیکر استعمال کر کے اشیاء فروخت کرتے ہیں جو واضح طور پر لاؤڈ اسپیکر ایکٹ اور حکومتی احکامات کی خلاف ورزی ہے۔

سماعت کے دوران ایڈیشنل سیشن جج مقصود قریشی نے نہ صرف درخواست پر غور کیا بلکہ معاملے کا خود بھی نوٹس لیا عدالت نے درخواست گزار کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ لاؤڈ اسپیکر کا غیر ضروری استعمال عوامی سکون میں خلل ڈالنے کے مترادف ہے اور یہ عمل قانوناً قابلِ گرفت ہے۔

یہ بھی پڑھیں :وکیل نے بسنت منانے کے لیے عدالت کی ہی چھت مانگ لی

عدالت نے سینئر وکیل انوار ڈار کی درخواست منظور کرتے ہوئے پولیس کو واضح احکامات جاری کیے کہ گلی محلوں میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اشیاء فروخت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ ہاکرز دن کے اوقات کے ساتھ ساتھ رات گئے تک لاؤڈ اسپیکر پر آوازیں لگاتے رہتے ہیں جس سے علاقے کے مکینوں کی نیند متاثر ہوتی ہے۔خاص طور پر مریضوں، بزرگوں اور طلبہ کو شدید ذہنی اذیت اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت پہلے ہی لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر پابندی عائد کر چکی ہے، اس کے باوجود اس قانون کی کھلے عام خلاف ورزی ہو رہی ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ عوامی مفاد اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ اولین ترجیح ہے گلی محلوں میں شور شرابا نہ صرف ماحول کو آلودہ کرتا ہے بلکہ لوگوں کی روزمرہ زندگی کو بھی متاثر کرتا ہے،عدالت نے لاؤڈ اسپیکر پر اشیاء فروخت کرنے پر پابندی کو لازم قرار دیتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فوری اور مؤثر اقدامات کی ہدایت کی ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *