بنگلادیش نے چٹا گانگ میں قائم کیے جانے والے انڈین اکنامک زون کے منصوبے کو باضابطہ طور پر منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور اس کی جگہ دفاعی صنعت کے فروغ کے لیے ڈیفنس اکنامک زون بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق یہ اعلان بنگلادیش اکنامک زونز اتھارٹی کے ایگزیکٹو چیئرمین چوہدری عاشق محمود بن ہارون نے ڈھاکا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔چوہدری عاشق محمود نے کہا کہ یہ فیصلہ بنگلادیش اکنامک زونز اتھارٹی کے گورننگ بورڈ کے اجلاس میں کیا گیا، جس کا بنیادی مقصد فوجی اور دفاعی صنعتوں میں ملک کی اندرونی صلاحیت کو مضبوط بنانا اور دفاعی شعبے میں خود انحصاری حاصل کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال کے پیش نظر بنگلادیش کے لیے ضروری ہو گیا ہے کہ وہ دفاعی پیداوار کے میدان میں اپنی استعداد میں اضافہ کرے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ فوجی صنعت میں ہتھیاروں اور دیگر دفاعی ساز و سامان کی تیاری پر کافی عرصے سے مشاورت جاری تھی، کیونکہ ان مصنوعات کی عالمی منڈی میں نمایاں طلب موجود ہے۔
چوہدری عاشق محمود نے مزید کہا کہ بنگلادیش کو نہ صرف اپنی دفاعی ضروریات خود پوری کرنے کی ضرورت ہے بلکہ مستقبل میں دفاعی مصنوعات کی برآمدات کے امکانات بھی موجود ہیں،اسی تناظر میں آرمڈ فورسز ڈویژن، وزارت دفاع اور چیف ایڈوائزر کے دفتر کے درمیان پہلے ہی مشترکہ طور پر کام کیا جا رہا تھا۔
انہوں نے کہا کہ چٹاکانگ کے علاقے میں تقریباً 850 ایکڑ خالی زمین کی نشاندہی کی جا چکی ہے، جو گزشتہ سال جون تک انڈین اکنامک زون کے لیے مختص تھی۔
بعد ازاں اس منصوبے کو منسوخ کر دیا گیا اور اب اسی زمین کو ماسٹر پلان میں باقاعدہ طور پر دفاعی اکنامک زون کے طور پر شامل کیا جائے گا، حکام کے مطابق اس زون میں دفاعی صنعت سے وابستہ مختلف منصوبے شروع کیے جائیں گے، جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور ملکی معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔
چوہدری عاشق محمود کا کہنا تھا کہ بنگلادیش اس حوالے سے اپنے دوست ممالک کے ساتھ مشاورت کر رہا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ کون سا فوجی یا دفاعی ساز و سامان تیار کیا جائے گا۔ اس کا حتمی فیصلہ عالمی طلب، ملکی ضروریات اور تکنیکی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔