امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے لیے چار نئی اور سخت شرائط عائد کر دی ہیں، جن کا مقصد تہران کو سیاسی، عسکری اور سفارتی دباؤ کے ذریعے مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹرمپ کی مجوزہ پالیسی دراصل ان کے پہلے دورِ صدارت میں اپنائی گئی زیادہ سے زیادہ دباؤکی پالیسی کا تسلسل ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پہلی شرط یہ ہے کہ ایران کسی تیسرے ملک یا ثالث کے بغیر براہِ راست امریکا سے مذاکرات کرے گا۔ ٹرمپ کی ٹیم کا مؤقف ہے کہ بالواسطہ مذاکرات یا یورپی یونین کے ذریعے بات چیت ماضی میں ناکام ثابت ہو چکی ہے، اس لیے اب صرف براہِ راست مذاکرات ہی قابل قبول ہوں گے۔
دوسری شرط ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکا چاہتا ہے کہ ایران یورینیم افزودگی کو مکمل طور پر ختم کرے یا کم از کم اسے انتہائی محدود سطح تک لائے، تاکہ کسی بھی ممکنہ جوہری ہتھیار کی تیاری کا خدشہ ختم کیا جا سکے۔ امریکی حکام کے نزدیک یہ شرط خطے اور عالمی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔
تیسری شرط ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر پابندیوں سے متعلق بتائی جا رہی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق واشنگٹن کا مطالبہ ہے کہ ایران طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری اور تجربات بند کرے، کیونکہ یہ میزائل خطے میں عدم استحکام کا باعث بن رہے ہیں۔
چوتھی اور اہم شرط خطے میں سرگرم گروہوں کی حمایت سے دستبرداری ہے۔ امریکی رپورٹس کے مطابق امریکا چاہتا ہے کہ ایران لبنان، یمن، شام اور عراق میں موجود اپنے اتحادی گروہوں کو مالی اور عسکری مدد فراہم کرنا بند کرے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ان چار شرائط پر ایران کی رضامندی آسان نہیں، کیونکہ تہران پہلے ہی ایسے مطالبات کو اپنی خودمختاری کے خلاف قرار دیتا رہا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ دباؤ اور دھمکیوں کے ذریعے مذاکرات ممکن نہیں۔ مبصرین کے نزدیک اگر یہی سخت شرائط برقرار رہیں تو امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ مذاکرات کا راستہ مزید مشکل دکھائی دیتا ہے۔